کے بعد محبت وانس کے سوا کوئی مرتبہ نہیں اور محبت کی ضروریات میں سے ایک یہ ہے کہ محبوب کے فعل پر راضی رہا جائے اور اس کی عنایتو ں پر بھروسا کیا جائے،اسی کا دوسرا نام ”توکُّل“ہے۔
بہرحال صبر کے علاج کے سلسلے میں ہم نے جو کچھ ذکر کیا تھااگرچہ وہ خوف وامید کے لئے بھی کافی ہے لیکن پھر بھی ہم اجمالی طورپر الگ سے خوف کا ذکر کرتے ہیں۔
حصولِ خوف کے دو طریقے:
خوف کو حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں جن میں سےایک طریقہ دوسرے سے بہتر ہے:
مثال:ایک بچہ گھر میں موجود ہو اور اچانک کوئی درندہ یا سانپ گھر میں داخل ہوجائےتو بچہ اس سے خوف زدہ نہیں ہوتا بلکہ سانپ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھادیتاہے تاکہ اسے پکڑ کر اس سے کھیل سکےلیکن اگر اس کا باپ وہاں موجود ہو اور وہ عاقل ہو تو وہ سانپ سے ڈرکر بھاگ جائے۔بچہ جب اپنے باپ کو دیکھتا ہےکہ سانپ کے خوف سے اس کے بدن پر لرزہ طاری ہے اور وہ بھاگنے کی کوشش کررہا ہے تو وہ بھی کھڑا ہوجاتا ہے،اس پر خوف غالب آتا ہے اور باپ کے ساتھ ساتھ وہ بھی بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔اس مثال میں باپ کا خوف سانپ کی صِفات،اس کے زہر اور ہلاک کرنے والی خُصوصیت کے سبب ہے یا پھر درندے کی پکڑ،اس کے غَلَبے اور کسی کی پروا نہ کرنے کے باعث ہے جبکہ بچے کا خوف محض اپنے باپ کی تقلید کے طور پر ہے کیونکہ وہ اپنے باپ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ میرا باپ کسی ایسی چیز سے خوف زدہ ہے جو واقعی ڈرنے کے قابل ہے،باپ کی تقلید کرتے ہوئے بیٹا اس بات کو جان لیتا ہے کہ درندہ اور سانپ ایسی چیزیں ہیں جن سے خوف زدہ ہونا چاہئے اگرچہ اسے اس کا سبب معلوم نہیں ہوتا۔
اس مثال کو سمجھ لینے کے بعد جانناچاہئے کہ خوفِ خدا کی دو اقسا م ہیں:(۱)…عذابِ الٰہی سے خوف (۲)…ذاتِ باری تعالیٰ سے خوف۔
ذاتِ باری تعالیٰ سے خوف ان نُفُوسِ قُدسِیہ کے حصے میں آتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بارے میں علم رکھنے والے،قلْبِ سلیم کی دولت سے مالامال اوران صِفاتِ باری تعالیٰ کی معرفت رکھنے والے ہیں جو ہیبت وخوف اور احتیاط کا تقاضا کرتی ہیں نیز یہ حضرات ان فرامیْنِ باری تعالیٰ کے اسرار ورُمُوز پر بھی واقف ہوتے ہیں: