Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
491 - 882
 دور کردی جائے یہاں تک کہ دنیا بندے کےنزدیک اس قید خانے  کی  طرح ہوجائے جو اسے اس کے محبوب سے ملنے سے روکتی ہےیہی وجہ ہے کہ ایک نیک شخص نےحضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکو خواب میں دیکھا کہ وہ ہوا میں اڑرہے ہیں۔ان کا حال پوچھا تو انہوں نے فرمایا:ابھی ابھی قید سے آزاد ہوا ہوں۔صبح ہونے پر ان کے بارے میں معلومات کیں تو بتایا گیا کہ گزشتہ رات ان کا اِنتقال ہوچکا ہے۔
چھٹی فصل:				خوف  پیداکرنے کی دوا کا بیان
	’’صبروشکر کے بیان‘‘میں ہم نے صبر کی دولت کو پانے کے لئےجس دواکو بیان کیا ہے وہ خوف کو حاصل کرنے کے لئے بھی کافی ہے کیونکہ خوف اور امید کو حاصل کئے بغیر صبر کا حُصول ممکن نہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دینی مقامات میں سے پہلا مقام یقین ہے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور قیامت پر ایمان کی قوت کو یقین کہا جاتا ہےاور یہ یقین لازمی طور پر دوزخ کا خوف اور جنت کی امید پیدا کرتا ہے ۔خوف اور امید صبر سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں کیونکہ جنت کو مشکلات اور پریشانیوں سےڈھانپ دیا گیا ہے جنہیں صرف امید کی قوت سے برداشت کیا جاسکتا ہے جبکہ دوزخ کو شہوات اور نفسانی خواہشات سے ڈھانپا گیا ہےجن سے بچنا صرف خوف کی قوت کےذریعے ممکن ہے ۔اسی لئے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: جنت کا مشتاق شخص نفسانی خواہشات سے الگ ہوجاتا ہے جبکہ دوزخ سے ڈرنے والا حرام کاموں کو ترک کردیتا ہے۔
	خوف اور امید سے حاصل ہونے والا صبر کا مقام بندے کو مقامِ مُجاہَدہ،اِستقامت کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر اور اس کی نعمتوں کے بارے میں غور وفکر کی خاطر گوشہ نشینی تک لے جاتا ہے پھر پابندی کے ساتھ ذکراللہ بندے کواللہ عَزَّ  وَجَلَّسے اُنس تک جبکہ پابندی کے ساتھ غوروفکراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی کامل معرفت تک لے جاتاہےپھر کمالِ معرفت اور انس بندے کواللہ عَزَّ  وَجَلَّکی محبت تک لے جاتے ہیں جبکہ مقامِ محبت کے بعد رِضا،توکُّل اور دیگر مقامات کےحصول کی باری آتی ہے۔دین کے راستے پر چلنے میں مَنازِل کی یہ ترتیب ہوتی ہے ۔یقین کے بعد خوف وامید کے علاہ کوئی اور مقام نہیں ہے،ان دونوں کے بعد صبر کےسوا کوئی مقام نہیں،صبر کے بعد مجاہدہ اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے ظاہِری وباطِنی طور پر گوشہ نشینی کا مرتبہ ہے،جس شخص کے لئے راستے کھول دیئے جائیں اس کے لئے مجاہدے کے بعد ہدایت ومعرفت کے سوا کوئی مقام نہیں ،معرفت