اور دل سے دنیا کی محبت کا خاتمہ کرتا ہے جبکہ موت کے وقت امید کا غلبہ بہتر ہے کیونکہ یہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کاباعث بنتا ہے۔اسی لئے مُعَلِّمِ کائنات،شاہِ موجوداتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:لَا يَمُوْتَنَّ اَحَدُكُمْ اِلَّا وَهُوْ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِرَبِّهٖیعنی تم میں سے ہر شخص ا س حال میں مرے کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو۔(1)
حدیْثِ قدسی میں ہے:اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ فَلْيَـظُنَّ بِیْ مَا شَآءَیعنی میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں اب وہ میرے بارے میں جو چاہے گمان رکھے۔(2)
وقْتِ نزع امید پر مشتمل باتوں کا ذکر کیا جائے:
جب حضرت سیِّدُنا سلیمان تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:اے میرے بیٹے !میرے سامنے امید اور آسانیوں کا تذکرہ کرو تاکہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہوئے اس سے ملاقات کروں۔
یونہی جب حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا وقْتِ رخصت آیا اور ان پر گھبراہٹ طاری ہوئی تو ان كے گرد موجود عُلَمائےکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے امید پر مشتمل باتوں کا ذکر کیا۔
حضرت سیِّدُناامام احمدبن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل نے وصال سے قبل اپنے صاحب زادے سے فرمایا: میرے سامنے وہ رِوایات بیان کرو جن میں امید اور حُسْنِ ظن کا تذکرہ ہے۔
ان بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا مقصود یہ تھا کہ اپنے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت میں مزید اضافہ فرمائیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُناداؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ مجھے میرے بندوں کے نزدیک محبوب بنائیے۔عرض کی:کیسے؟ارشاد ہوا:ان کے سامنے میری نعمتوں اور احسانات کا تذکرہ کرکے۔
خلاصَۂ کلام:
بندے کے لئے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ مرتے وقت وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے والا ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کے حصول کاایک ہی ذریعہ ہے کہ اس کی معرفت حاصل کی جائے اور دل سے دنیا کی محبت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم،کتاب الجنة و صفة نعیمھا واھلھا، باب الامر بحسن الظن باللہ…الخ،ص۱۵۳۸،حدیث:۲۸۷۷
2…المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند الشامیین، حدیث واثلة بن الاسقع،۶/ ۴۳،حدیث :۱۶۹۷۶