یا ترک کرکے۔ اور اس کی تفصیل کا یہ تقاضا ہے کہ تما م شرعی احکام کو اوّل تا آخربیان کیا جائے اور یہ ہمارا مقصد نہیں۔ البتہ ہم اجمالی طور پر گناہوں اور ان کی اَقسام کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔
پہلی فصل: بندوں کی صفات کے اعتبار سے گناہوں کی اقسام
پہلی تقسیم اوراس کی چاراقسام:
یادرکھئے کہ انسان کے اَوصاف اور اَخلاق (عادات)بہت زیادہ ہیں،جن کی تفصیل وشرح ”قلبی عجائبات کے بیان“میں ہوچکی ہے مگر تمام گناہ چار صفات میں منحصر ہیں:(۱)صِفَتِ رَبُوبِیَّت (۲)شیطانی صِفَت (۳)جانوروں والی صِفَت اور (۴)درندوں والی صِفَت۔ ایسا اس لئے ہے کہ انسان کا خمیر مختلف عناصر سے تیار کیا گیا ہے لہٰذا اس مُرَکَّب خمیر میں شامل ہر عُنْصُر ایک الگ اثر کا تقاضا کرتا ہے جیسے سِکَنۡج بِیۡن (سِ۔کَنج۔بین) میں شکر، سِرکَہ اور زَعفران کا الگ الگ اثر ہوتا ہے۔
(1)…صِفَتِ رَبُوْبیت:
صِفاتِ رَبُوْبِیَّت کی طرف مَیلان بندے میں تکبُّر، فَخَر، جَبْر، حُبِّ مَدْح وحُبِّ ثنا، حُبِّ جاہ وحُبِّ مال، ہمیشہ رہنے کی چاہت اورسب پر بلندی کی خواہش کا تقاضاکرتا ہے یہاں تک کہ گویاوہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾ یعنی میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں(1)“ اس سے ظاہر ہونے والے گناہ بھی کبیرہ ہوتے ہیں جن سے بندے غافل ہیں اور انہیں گناہ شمار نہیں کرتے حالانکہ یہ اس قدر مُہْلِک ہیں گویا تمام گناہوں کی بنیاد وجڑہیں جیساکہ ہم نے (تیسری جلد میں)” مُہْلِکات کے بیان“ میں اس کے تمام گوشوں کو بیان کردیا ہے۔
(2)…شیطانی صِفَت:
یہ وہ صِفَت ہے جس سے حَسَد، سرکشی،حیلہ سازی ،دھوکا بازی اور فسادو بُرائی کی طرف لےجانے والے اُمور ظاہر ہوتے ہیں نیز جعل سازی ، مُنافَقت اور بِدْعات و گمراہی کی طرف بلانا بھی اس میں شامل ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یعنی میرے اوپر اور کوئی رب نہیں۔(پ۳۰، اَلنّٰزعٰت، تحت الآیة:۲۴)