کے حق میں محبوب سے رکاوٹ کا باعث ہیں اور گویا کہ دنیا اس کےحق میں قید خانے کی طرح ہے کیونکہ قید خانہ ایسے مقام کو کہا جاتا ہے جو اپنے اندر قید شخص کو اس کی محبوب چیزوں تک جانے سے روک دیتا ہے۔ایسے شخص کے حق میں موت قید خانے سے رہائی اور اپنے محبوب یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں حاضری کا پیغام لاتی ہےاور جس شخص کو قید خانے سے رہا کر کے اس کے اور اس کے محبوب کے درمیان سے تمام رکاوٹیں ختم کردی جائیں اس کی خوشی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
موت کے وقت ملنے والی پہلی نعمت اور پہلا عذاب:
جو بھی شخص دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو موت کے بعد اسے ملنے والی پہلی نعمت یا پہلا عذاب مذکورہ خوشی یا غم کی صورت میں ہوتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے نیک بندوں کے لئے جو نعمتیں تیار رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھانہ کسی انسان کے دل پران کا خیال گزرا وہ اس نعمت کے علاوہ ہیں نیز وہ بدنصیب لوگ جنہوں نےدنیاکی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اسی پر راضی ومطمئن رہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے لئےجوبیڑیاں، زنجیریں، طَوق،طرح طرح کے عذابات اوررُسوائی تیارفرمائی ہے وہ بھی مذکورہ غم کے عذاب کے علاوہ ہیں۔
ہماللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ایمان پر موت عطا فرمائے اور ہماراحَشْر اپنے نیک بندوں کے ساتھ فرمائے۔اس دعا کی قبولیت کی امید اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ بندہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کو حاصل کرنے کی کوشش کرےاور محبَّتِ خداوندی پانے کا راستہ صرف ایک ہے کہ دل سے غیر خداکی محبت کا خاتمہ کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا ہر چیز سے قطع تعلق کرلیا جائے چاہےوہ عزت ومال ہویا وطن،دوست اوراہل وعیال۔
دعائے محبوبِ خدا:
بہتر یہ ہے کہ ہم وہ دعا مانگیں جومحبوبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مانگی:اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِیْ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ اَحَبَّكَ وَحُبَّ مَا يُقَرِّبُنِیْ اِلٰى حُبِّكَ وَاجْعَلْ حُبَّكَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنَ الْمَآءِ الْبَارِدِیعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھےتیری، تجھ سے محبت کرنے والے بندوں کی اور تیری محبت کے قریب کرنے والے اعمال کی محبت عطا فرما اور اپنی محبت کو میرے نزدیک ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنادے۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حسن ظن:
بہرحال موت سے پہلے پہلے خوف کا غلبہ بہترہے کیونکہ یہ نفسانی خواہشات کی آگ کو جلا کر راکھ کردیتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب الدعوات عن رسول اللہ، باب ۷۲، ۵/ ۲۹۶،حدیث:۳۵۰۱