ہے کہ خوف ایک کَوڑے کی طرح ہے جو عمل پراُبھارتا ہے اور اب عمل کا وقت ختم ہوچکا ہے،قریْبُ المرگ شخص عمل پر قدرت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس وقت وہ خوف کے اسباب کو برداشت کرسکتا ہے اس لئے کہ ان کےسبب اس کے دل کی رگ پھٹ کر اسے جلد موت کا شکار بناسکتی ہے جبکہ امید اس کے دل کی ڈھارَس بندھاتی اور اس کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت میں اضافہ کرتی ہے۔ دنیا سے کوچ کرتے وقت ہر شخص کواللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنے والا ہونا چاہئے تاکہ وہ اس سے ملاقات کوبھی پسند کرتا ہوکیونکہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملنے کو پسند کرتاہے اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے۔
امید اورمحبت کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے ،انسان کو جس کے فضل وکرم کی امید ہوتی ہے وہ انسان کا محبوب بن جاتا ہے۔تمام عُلُوم اور اَعمال کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بندے کواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت حاصل ہوجائے تاکہ اس معرفت کی بدولت دل میں اس کی محبت گھر کرلےکیونکہ مرنے کے بعد بندے کو اسی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے اور جو اپنے محبوب کے پاس جاتا ہے اسے اپنی محبت کی مقدار کے مطابق ملاقات کی خوشی ہوتی ہےجبکہ اپنے محبوب سے جدا ہونے والے کو بھی اپنی محبت کے اعتبار سے تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دنیاقیدخانہ ہے مگر کس کے لئے؟
موت کے وقت جس شخص کے دل پر با ل بچوں ،مال ودولت،مکانات،زمینوں اور دوست واحباب کی محبت غالب ہو تو یہ ایک ایسا شخص ہے جس کی تمام تر محبت دنیا سے وابستہ ہے اور گویا کہ دنیا ہی اس کی جنت ہے کیونکہ جنت اس جگہ کو کہتے ہیں جس میں تمام محبوب وپسندیدہ چیزیں موجود ہوں ۔اس شخص کے حق میں موت جنت سے نکلنے نیز اس کے اور اس کی محبوب چیزوں کے درمیان جدائی کا باعث ہے اور ایسے شخص کی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس كے برعکس جس خوش نصیب کی محبت صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّ،اس کے ذکر اور معرفت اور اس بارے میں غور وفکر سےوابستہ ہو تو دنیا اور اس کے مُتَعَلِّقات ایسے شخص