Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
487 - 882
 خوف انہیں رحمَتِ الٰہی سے مایوسی،عمل ترک کردینے اور مغفرت کی امید ختم ہونے تک نہ لے جائے۔ خوف کا غلبہ اگر ان چیزوں تک لے جائے تو پھر وہ عمل کے معاملے میں سستی کا سبب اور گناہوں میں مشغولیت کا داعِی بن جاتا ہے اور یہ درحقیقت خوف نہیں بلکہ رحمتِ خداوندی سے  ناامیدی ومایوسی ہے جو کہ کفر ہے۔خوف تو ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کو عمل پر ابھارتی ،تمام نفسانی خواہشات کو بے مزہ بنادیتی ،دل کو دنیا کی جانب مائل ہونے سے روکتی اور اسے دھوکے والے گھر(یعنی دنیا)سے کنارہ کشی کی دعوت دیتی ہےاور ایسا ہی خوف شرعاً قابلِ تعریف ہے۔اس کے برعکس محض دل میں پیدا ہونے والا خیال جو نہ تو ممنوعہ کاموں سے باز رکھنے کا فائدہ دے اور نہ ہی عبادات کی بجاآوری میں مُعاوِن ثابت ہونیز ایسی مایوسی جو رحمَتِ خداوندی سے ناامیدی کا سبب بنے،ان دونوں کی کوئی فضیلت نہیں۔
	حضرت سیِّدُنایحییٰ بن مُعاذرازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:جو شخص امید کے بغیر محض خوف کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت کرےوہ فکر وں کے سمندر میں غوطے کھاتا رہے گا،بغیر خوف صرف امید کے ساتھ عبادت کرنے والا دھوکے کے صحرا میں بھٹکتاپھر ے گا جبکہ خوف وامید دونوں کے ساتھ عبادت بجا لانے والاذکر کے راستے میں سیدھا کھڑا ہونے والا ہے۔
حَرُوْرِی،مُرجی،زِنْدِیق اور مُوَحِّد:
	حضرت سیِّدُنا مکْحُوْل دِمَشقیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:خوف کے سبب اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عبادت کرنے والا حروری(خارجی)،امید کے باعث عبادت بجالانے والا مُرْجِی،(خلاف شرع)محبت کی وجہ سے عبادت کرنے والا زِندیق جبکہ خوف وامیداور محبت تینوں کے سبب عبادت کرنے والا مُوَحِّد ہے۔
موت کے وقت غلبَۂ امید بہتر ہے:
	خلاصَۂ کلام یہ ہے کہ ان تینوں امور یعنی خوف،امید اور محبت کو جمع کرنا ضروری ہے اورموت کا وقت آنے سے پہلے تک  خوف کا غلبہ بہتر ہے،البتہ جب کوئی شخص مرض الموت میں مبتلا ہو اور اس کی موت کا وقت آجائے تو اس کے حق میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے بارے میں حُسْنِ ظن  اورامید کا غَلَبہ بہتر ہے ۔اس کی وجہ یہ