نيك شخص کا بُرا خاتِمَہ:
حضورنبیّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے:ایک شخص50سال تک جنتیوں جیسے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمِیان صرف ایک بالشت کا(ایک روایت کے مطابق)اونٹنی کےدودھ دوھنے کے درمیانی وقفے جتنا فاصلہ رہ جاتا ہے،پھر اس پر تقدیر غالب آتی ہے اور اس کا خاتمہ جہنمیوں والے اعمال پر ہوتا ہے۔(1)
اونٹنی کےدودھ دوھنے کے درمِیانی وقفے میں انسان کوئی ایسا عمل نہیں کرسکتا جو بدبختی کا سبب بنے البتہ یہ ممکن ہے کہ مرتے وقت اس مختصر سے وقت میں انسان کے دل میں ایسا فساد پیدا ہوجائے جس کےسبب اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو۔ ان سب خطرات کے ہوتے ہوئے بے خو ف کیسے ہوا جاسکتا ہے؟ اَلْغَرَض !ایک مومن کے لئےسب سے بڑی سعادت یہی ہے کہ اس کا خوف اور امید دونوں برابر ہوں۔
غلبَۂ امید کے اسباب:
اکثر لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان پر امید کا غلبہ ہوتا ہےجس کی وجہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو معرفت حاصل نہیں ہوتی اور وہ دھوکے کا شکار ہوتے ہیں،اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جن بندوں کی تعریف فرمائی ہے ان کا وصف بیان کرتے ہوئے خوف اور امید دونوں کو جمع فرمایا ہے۔چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ۫ (پ۲۱،السجدة:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے۔
ایک مقام پر ارشاد فرمایا: وَ یَدْعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕ (پ۱۷،الانبیاء:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے۔
آج کے دور میں امیرالمؤمنین حضر ت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجیسی شخصیت کہا ں پائی جاسکتی ہے؟لہٰذااس دورمیں سب کے لئے خوف کا غَلَبہ ہی بہترہے لیکن اس کے لئے یہ بات شرط ہے کہ غَلبۂ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب التوحید، باب ولقدسبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین،۴/ ۵۶۰،حدیث : ۷۴۵۴
الابانة لابن بطة،باب ماروی فی الایمان بالقدرالخ،۴/ ۲۰۸،حدیث:۱۷۵۷،نوٹ:دارالرایة ۱۴۱۸ھ ریاض