مائل ہونے کا اندیشہ باقی رہتا ہے۔دل کو پیش آنے والی یہ آفات اس قسم کی ہیں جن کی تحقیق نہیں کی جاسکتی اور نہ تجربےکے ذریعے ان کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے کیونکہ بعض اوقات د ل پر اچانک ایسی آفات حملہ آور ہوجاتی ہیں جن کا نہ تو بندے کو تجربہ ہوتا ہےاور نہ ہی ا س میں ان کی مُخالَفَت کی طاقت ہوتی ہے۔ہماری اس مثال میں آسمانی بجلیاں موت کے وقت پیش آنے والی سختیاں اور ا س وقت عقیدے کا کمزور ہوجانا ہے اور یہ بھی ایسی چیز ہے جس کا بندے کو پہلے سے کوئی تجربہ نہیں ہوتا،پھر کھیتی کاٹنے اور فصل کا نتیجہ پانے کا وقت قیامت سے جنت کی طر ف جانے کے وقت آئے گا اور اس کا تجربہ بھی بندے کو پہلے سے نہیں ہوتا۔
جو شخص ان تمام باتوں کی معرفت حاصل کرلیتا ہے اگر وہ کمزور دل کا مالک اور فطری طور پر بزدل ہو تو لازمی طور پر اس کا خوف امید پر غالب آجاتا ہے جیسا کہ عنقریب صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابِعِیْن عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَاممیں سے خائفین کے احوال بیان کئے جائیں گے اور اگر وہ مضبوط دل والااور کامل معرفت کا حامل ہو تو اس کا خوف اور امید برابر ہوتے ہیں، اس پر صرف امید کا غلبہ نہیں ہوتا۔
امیرالمؤمنین حضر ت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے دل کی تفتیش کے معاملے میں مبالغہ فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ بن یَمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے دریافت فرماتے تھے کہ کیا آپ مجھ میں نفاق کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی پاتے ہیں؟اس سوال کا سبب یہ تھا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ بن یَمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو خاص طور پر منافقین کا علم عطا فرمایا تھا۔(1)
بھلا کون سا شخص ایسا ہے جو اپنے دل کو مکمل طور پر پوشیدہ نفاق اور شرکِ خفی سے صاف کرنے پر قادر ہواگرچہ اس بات کا یقین ہی کیوں نہ کر لے کہ میرا دل ان آفات سے پا ک ہے تو پھروہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے کیسے بے خوف ہوسکتا ہے کہ اس کا حالِ دل مُتَغَیر ہو جائے گا اور اس کے عیب اس سے مخفی ہیں اگرچہ اس کا بھی یقین کر لے تو پھر یہ یقین کہاں سے لائے گا کہ میں اسی حالت پر قائم رہوں گا یہاں تک کہ میرا خاتِمَہ اچھا ہوجائے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب الذکروالدعاء والتوبة والاستغفار،باب صفات المنافقین واحکامھم،ص۱۴۹۶،حدیث:۲۷۷۹،ملخصًا و مفھومًا