Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
483 - 882
 شخص کو محبت کی وہ کیفیت حاصل نہیں ہوتی جو امید سے حاصل ہوتی ہے۔
	بہرحال جو چیز بذاتِ خود مقصود نہ ہو بلکہ اسے کسی مقصد تک پہنچنے کے لئے استعمال کیا جائے اس کے لئے افضل کے بجائے” اَصلح “ کا لفظ استعمال کرنا مناسب ہوتا ہے اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ گناہوں اور نافرمانیوں کے غَلَبے کے باعث اکثر لوگوں کے حق میں امید کے بجائے خو ف ”اصلح“ ہے جبکہ ایسا متقی شخص جس نے ظاہِری،باطِنی،خُفْیہ اورعَلانیہ ہر قسم کے گناہوں کو ترک کردیا ہو اس کے حق میں خوف وامید کا اِعتدال”اصلح“ہےاسی لئے منقول ہے:لَوْ وُزِنَ خَوْفُ الْمُوْمِنِ وَرَجَاؤُ هٗ  لَاِعْتَدَلَا یعنی اگرمومن کے خوف اور امید کا وزن کیا جائے تو وہ برابر ہوں گے۔
بیٹے کو نصیحت:
	امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنے بیٹے کونصیحت کرتے ہوئے فرمایا:میرے بیٹے!اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ایسا خوف رکھو جس کے سبب تمہیں یہ گمان ہو کہ اگر میں تمام اہْلِ زمین کی نیکیاں لے کر بھی اس کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو وہ قبول نہ فرمائے گا اور اس سے امید ایسی رکھو کہ اگر میں تمام زمین والوں کے گناہوں سمیت بھی اس کی خدمت میں پیش ہوا تو وہ میری مغفرت فرمادے گا۔
غَلَبَہ اوراِعتدال:
	امیر المؤمنین حضر ت سیِّدُناعُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:اگر یہ ندا کی جائے کہ ایک شخص کےسوا تمام لوگ جہنم میں جائیں گے تو مجھے   امید ہے کہ وہ شخص میں ہوں اور اگر یہ صدا لگائی جائے کہ ایک آدمی کے سوا سب داخِلِ جنَّت  ہوں گے  تومیں اس بات کا خوف کرتا ہوں کہ وہ شخص میں ہوں۔
	امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ كے اس قول میں خوف وامید کے غَلَبے کے ساتھ ساتھ اِعتدال بھی موجود ہے اوران  جیسی شخصیت کے لئے یہی بات مناسب ہے کہ ان کا خوف اور امید برابر ہوں لیکن اگر کوئی گناہ گارشخص یہ گمان کرے کہ ایک  شخص دوزخ میں جانے سے محفوظ رہے گا وہ میں ہوں تو اس کا یہ گمان اس بات کی دلیل ہے کہ وہ دھوکے کا شکار ہے۔