پانچویں فصل: خوف افضل ہے یاامید
خوف اور اُمید دونوں کی فضیلت کے بارے میں اس قدر کثرت سے روایات موجو د ہیں کہ انہیں جاننے والا شک میں پڑجاتا ہے کہ ان دونوں میں سے افضل کیا ہے۔دراصل یہ سوال ہی غَلَط ہے کہ خوف افضل ہے یا امید؟یہ سوال ایسے ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ روٹی افضل ہے یا پانی؟اس کا جواب یہ ہے کہ بھوکے شخص کے لئے روٹی جبکہ پیاسے کے لئے پانی افضل ہےاور اگر بھوک وپیاس دونوں جمع ہوجائیں تو دیکھا جائے گا کہ دونوں میں سے غالب کون ہے،بھوک غالب ہو تو روٹی جبکہ پیاس غالب ہونے کی صورت میں پانی افضل ہےاور اگر بھوک وپیاس برابر ہوں تو پھر روٹی وپانی بھی برابر ہوں گے،اس کا سبب یہ ہے کہ جو چیز کسی مقصد کو پانے کے لئے استعمال کی جاتی ہے تو اس کی فضیلت اس مقصدکے اعتبار سے ہوتی ہے نہ کہ اپنی ذات کے لحاظ سے۔خوف اور امید دو دوائیں ہیں جن کے ذریعے دل کا علاج کیا جاتا ہے اور ان کی فضیلت انسان کو لاحق مرض کے اعتبار سے ہوتی ہے ،اگر کسی کے دل پراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بے خوفی غالب ہواور وه اس مُعامَلے میں دھوکے کا شکار ہو تو اس کے حق میں خوف افضل ہے اور اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوسی اور ناامیدی کا غَلَبَہ ہو تو امید افضل ہے،یونہی اگر کسی شخص پر گناہوں کا غَلَبہ ہو تو اس کے حق میں خوف افضل ہے۔
یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ عمومی طور پر خوف افضل ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ روٹی سِکَنْج بِیْنسے افضل ہےکیونکہ روٹی بھوک کو دور کرنے کے کام آتی ہے جبکہسِکَنْج بِیْنکو صَفرا کی بیماری کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہےاور چونکہ مَرَضِ صَفرا کی بنسبت بھوک کا معاملہ زیادہ درپیش آتا ہے اور روٹی کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے اس لئے روٹی افضل ہے۔اس اعتبار سے خوف افضل ہے کیونکہ اکثر لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ گناہوں میں مبتلا اور دھوکے کا شکار ہوتے ہیں۔
اگر خوف وامید کی جائے پیدائش کی طرف نظر کی جائے تو پھر امید افضل ہے کیونکہ یہ دریائے رحمت سے جنم لیتی ہے جبکہ خوف دریائے غَضَب سے پیدا ہوتا ہے ،اس کا سبب یہ ہے کہ جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایسی صفات میں غور کرتا ہے جو لُطف ورحمت کا تقاضا کرتی ہیں تو اس پر محبت کا غَلَبہ ہوتا ہے اور کوئی مقام محبت سے بلند نہیں جبکہ خوف کی کیفیت ایسی صفات میں غور کرنے سے جنم لیتی ہے جو سختی کا تقاضا کرتی ہیں، لہٰذا ایسے