تو فَرِشتے تم سے مصافحہ کریں!
(7)…حضرت سیِّدُناحنظلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:ہم بارگاہِ رسالت میں حاضر تھے کہ حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا وعظ فرمایا جس کے سبب دل نرم پڑگئے،آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور ہمیں اپنے آپ سے نفرت ہوگئی۔اس کے بعد میں اپنے گھروالوں کے پاس واپس آیا،میری بیوی مجھ سے قریب ہوئی اور ہمارے درمیان دنیوی گفتگو ہوئی تو میں ان باتوں کو بھول گیا جوپیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سیکھی تھیں اور دنیا میں لگ گیا،اس کے بعد جب مجھے وہ باتیں یاد آئیں تو میں نے اپنے دل میں کہا:میں تو منافق ہوگیا ہوں کیونکہ مجھ سے خوف اور رقت کی وہ کیفیت دور ہوگئی ہے۔میں اپنے گھر سے باہر آگیا اور یہ ندا کرنے لگا:حنظلہ منافق ہوگیا۔راستے میں مجھےحضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ملے اور میں نے انہیں اپنے معاملے کی خبر دی تو انہوں نے فرمایا:حنظلہ ہرگز منافق نہیں ہوا۔اس کے بعد میں بارگاہِ رسالت میں یہ کہتے ہوئے حاضر ہواکہ حنظلہ منافق ہوگیا۔توحضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:حنظلہ منافق نہیں ہوا۔میں نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم آپ کی خدمت میں حاضر تھےکہ آپ نے ہمیں ایسا وعظ فرمایا جس سے دل خوف زدہ ہوگئے،آنکھوں سےآنسو بہہ نکلے اور ہمیں اپنے آپ سے نفرت ہوگئی،پھر جب میں اپنے گھر گیا تو دنیا کی گفتگو میں مشغول ہوگیا اور اس کیفیت کو بھول گیا جو آپ کی بارگاہ میں حاضری کے وقت تھی۔یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت پر قائم رہو تو راستوں میں اور تمہارے بستروں پر فَرِشتے تم سے مصافحہ کریں لیکن اے حنظلہ!یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے(انسان کی کیفیت ہر وقت ایک جیسی نہیں رہتی)۔(1)
بہرحال امید اور رونے کی فضیلت ،تقوٰی اور ورع کی فضیلت ،علم کی فضیلت اور بے خوفی کی مَذمَّت کے بارے میں جس قدر روایات وغیرہ وارد ہیں وہ سب کی سب خوف کی فضیلت پر بھی دلالت کرتی ہیں کیونکہ ان سب چیزوں کا کسی نہ کسی اعتبار سے خوف سے تعلق ضرور ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم،کتاب الذکروالدعاء والتوبةوالاستغفار،باب فضل دوام الذکروالفکرفی امورالاخرة،ص۱۴۷۰،حدیث:۲۷۵۰، بتغیرقلیل