Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
480 - 882
خوفِ خداسے رونے کی فضیلت پر مشتمل سات اقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:جس سے ہوسکے وہ روئےاور جسے رونا نہ آئے تو وہ رونےجیسی صورت ہی بنالے۔
(2)…حضرت سيِّدُنا محمد بن مُنكَدِررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب روتے تو اپنے آنسوؤں کو چہرے اور داڑھی پر مل لیتے اورفرماتے:مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ جہنم کی آگ ان اعضاء کو نہیں کھائے گی جن سے(خوفِ خدا سے بہنے والے) آنسو مس ہوئے ہوں۔
(3)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عَمْرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:خوب روؤ اور اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی صورت ہی بنالو۔اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے !اگر تم میں سے  کسی شخص کو حقیقتِ حال کا علم ہوجائے تو وہ(خوفِ خدا کے سبب)اس قدر چیخیں مارے کہ اس کی آواز ختم ہوجائے  اور نماز کی اتنی کثرت کرے کہ اس کی کمر جواب دے جائے۔
(4)…حضرت سیِّدُناابوسلیمان دارنیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:جس شخص کی  آنکھ خوفِ خدا میں آنسو بہاتی ہےروزِ قیامت اس شخص کا چہرہ سیاہ ہوگا نہ اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا،جب اس کی آنکھ سے آنسو بہتے ہیں تواللہ عَزَّ  وَجَلَّان کے پہلے قطرے سے دوزخ کے شعلوں کو بجھادیتا ہےاور اگر کسی اُمَّت میں ایک بھی شخص خوفِ خدا سے روتا ہے تو اس کی برکت سے اس اُمَّت پر عذاب نہیں کیا جاتا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزید فرماتے ہیں:رونا خوف کے سبب ہوتا ہے جبکہ خوشی سے جھومنے اور شوق کی کیفیت امید سے پیدا ہوتی ہے۔
پہاڑبرابر سونا صدقہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ عمل:
(5)…حضرت سیِّدُنا کَعْبُ الاحبارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں:اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف سے روؤں یہاں تک کہ میرے آنسو رخساروں  پر بہیں یہ میرے نزدیک پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
(6)…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عُمَر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف سے میرا ایک آنسو بہانا میرے نزدیک پہاڑ برابر سونا صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔