Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
48 - 882
کرجائے تو اس کی قدرت میں اس کے خلاف کی بھی گنجائش ووُسْعَت ہے، لہٰذا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر کچھ واجب نہیں مگر جس کے لئے اس کا اَزَلی ارادہ سبقت فرماچُکا اس کا ہوکر رہنا لامُحالہ واجب ہے۔
دوسرا اعتراض اور اس کا جواب:
	توبہ کرنے والے کوقبولیتِ  توبہ میں شک ہوتا ہے جبکہ پانی پینے والے کو پیاس کے زائل ہونے میں شک نہیں ہوتا۔ تو وہ اس میں شک کیوں کرتا ہے؟
	اس کا جواب یہ ہے کہ قبولیتِ توبہ کے بارے میں اس کا شک ایساہی ہے جیساکہ اسے توبہ صحیح ہونے کی شرائط کے پائے جانے میں شک ہوتا ہے کیونکہ توبہ کے ارکان اور شرائط بہت باریک ہیں جیساکہ آگے آئے گا اور اس کی تمام شرائط کاپایاجانا متحقق وثابت نہیں ہوتا جیسے کوئی شخص قبض کو ختم کرنے کے لئے دوا استعمال کرتا ہے مگر اسے دوا میں شک ہوتا ہے کہ پتانہیں یہ اثر کرے گی یانہیں؟ اور یہ شک حالت،وقت،دوا کو ملانے اور جوش دینے کی کیفیت اور جڑی بوٹیوں اور اجزائے ترکیبی کی عمدگی کے اعتبار سے دوا میں قبض ختم کرنے کی شرطیں پائے جانے میں شک کی وجہ سے ہوتا ہے(یعنی پتا نہیں کہ دوا کو صحیح طرح ملایا گیا یانہیں؟یا جڑی بوٹیاں اچھی تھیں یا نہیں؟ وغیرہ) یہ اور اس جیسی باتیں توبہ کے بعد خوف کااور اس کی یقینی قبولیت میں شک کا  موجب وسبب ہوتی ہیں جیساکہ شرائط کے بیان میں ذکر کیا جائے گا۔اِنۡ شَآءَ اللہ
دوسرا رکن:	          		  گناہ کبیرہ اور صغیرہ کابیان جن سے
توبہ لازم ہے(اس میں تین فصلیں ہیں)
	جان لیجئے! گناہ کو ترک کرنا توبہ ہے  اور کسی شے کو اسی وقت ترک کیا جاسکتا ہے جب اس کی کامل پہچان ہوجائے اور جب توبہ واجب ہے تو جس شے کے بغیر اس تک رسائی نہیں ہوسکتی وہ بھی واجب ہوگی لہٰذا گناہ کی پہچان بھی واجب ہے۔
گناہ کی تعریف:
	ہروہ کام جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےحکم کے خلاف ہو اسے گناہ کہتے ہیں ،خلاف ورزی خواہ وہ کام اختیار کرکے ہو