ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے: اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیۡثِ تَعْجَبُوۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾ وَ تَضْحَکُوۡنَ وَلَا تَبْکُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾ وَ اَنۡتُمْ سٰمِدُوۡنَ ﴿۶۱﴾ (پ۲۷،النجم:۵۹تا۶۱)
ترجمۂ کنز الایمان:توکیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہواور روتے نہیں اور تم کھیل میں پڑے ہو۔
احاديثِ مبارکہ میں بھی خوفِ خداکی وجہ سےرونے کے کثیر فضائل بیان کئے گئے ہیں:
خوفِ خداسے رونے کی فضیلت پر مشتمل آٹھ فرامین مصطفٰے:
(1)…مَا مِنْ عَبْدٍ مُّؤْمِنٍ تَخْرُجُ مِنْ عَيْنَيْهِ دَمْعَةٌ وَّاِنْ كَانَتْ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ مِنْ خَشْيَةِ اللہ تَعَالٰى ثُمَّ تُصِيْبُ شَيْئًا مِّنْ حَرِّ وَجْهِهٖ اِلَّا حَرَّمَهٗ اللہ عَلَى النَّارِیعنی جس بندۂ مومن کی آنکھوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف کے سبب مکھی کے پر برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچاتواللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے پردوزخ کو حرام فرمادیتا ہے۔(1)
(2)…اِذَااقْشَعَرَّ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ مِنْ خَشْيَةِ اللہ تَحَاتَتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ مِنَ الشَّجَرَةِ وَرَقُهَایعنیاللہعَزَّ وَجَلَّ كےخوف کے سبب جب مؤمن کا دل کانپتا ہےتو اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ (2)
(3)…لَا يَلِجُ النَّارَ اَحَدٌ بَكٰى مِنْ خَشْيَةِ اللہ تَعَالٰى حَتّٰى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فِی الضَّرْعِیعنی جوشخصاللہ عَزَّ وَجَلَّكے خوف سے روئے وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینقل فرماتے ہیں:’’آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہوجاتاہے۔سجدہ واجب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔‘‘اورصفحہ 730پر فرماتے ہیں:فارسی یا کسی اور زبان میں آیت کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہوگیا،سننے والے نے یہ سمجھا ہو یا نہیں کہ آیتِ سجدہ کا ترجمہ ہے،البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے نامعلوم ہوتو بتادیا گیا ہو کہ یہ آیتِ سجدہ کا ترجمہ تھا اور آیت پڑھی گئی تو اس کی ضرورت نہیں کہ سننے والے کو آیتِ سجدہ ہونابتایا گیا ہو۔‘‘
نوٹ:مزیدتفصیل کے لئے بہارِشریعت کے مذکورہ مقام کے صفحہ720 تا739 یا دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبة المدینہ کے مطبوعہ49صفحات پر مشتمل رسالے’’تلاوت کی فضیلت‘‘ کا مطالعہ کیجئے!
1…سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الحزن والبکاء،۴/ ۴۶۷، حدیث:۴۱۹۷
2…مسند البزار،۴/ ۱۴۸،حدیث:۱۳۲۲
3…سنن الترمذی، کتاب فضائل الجھاد،باب ماجاءفی فضل الغبار فی سبیل اللہ،۳/ ۲۳۶،حدیث:۱۶۳۹