لازم و ملزوم ہیں،اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
وَ یَدْعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا (پ۱۷،الانبیاء:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے۔
ایک مقام پر ارشاد فرمایا: یَدْعُوۡنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ۫ (پ۲۱،السجدة:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے۔
چونکہ خوف اور اميد لازم وملزوم ہیں اس لئے اہْلِ عرب”رجا“کے لفظ سے خوف بھی مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مَا لَکُمْ لَا تَرْجُوۡنَ لِلہِ وَقَارًا ﴿ۚ۱۳﴾ (پ۲۹،نوح:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تمہیں کیا ہوا اللہسے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے۔
یعنی تمہیں کیا ہوا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے نہیں ہو۔
قرآنِ پاک میں کثیر مقامات پر”رجا‘‘ کا لفظ خوف کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ خوف ورجا لازم وملزوم ہیں اور اہْلِ عرب کی عادت ہے کہ وہ کسی چیز کو بیان کرنے کے لئے اس کے لازم کا استعمال بھی کرتے ہیں۔
میں یہ کہتا ہوں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے کے بارے میں جو فضائل وارد ہیں وہ خوفِ خدا کی فضیلت کو بھی ظاہر کرتے ہیں کیونکہ رونا اسی خوف کا نتیجہ ہے۔چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
فَلْیَضْحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّلْیَبْکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ (پ۱۰،التوبة:۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان:توانہیں چاہئے کہ تھوڑا ہنسیں اور بہت روئیں۔
ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے: یَبْکُوۡنَ وَیَزِیۡدُہُمْ خُشُوۡعًا ﴿۱۰۹﴾ٛ (پ۱۵،بنی اسرائیل:۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان:روتے ہوئے اور یہ قرآن ان کے دل کا جھکنا بڑھاتا ہے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…یہ آیتِ سجدہ ہے۔دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبة المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت، جلد اول،
صفحہ728پرصَدْرُالشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علامہ مولانا مفتی محمدامجدعلی اعظمیعَلَیْہِ…