Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
476 - 882
خوف اور اميد لازم وملزوم ہیں:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے عذاب اور اس کی خفیہ تدبیر سے امن  اور بے خوفی کی  مذمت کے بارے میں جو روایات وغیرہ وارد ہوئی ہیں وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں شمار نہیں کیا جاسکتا اور یہ تمام کی تمام روایات بھی خوف کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں کیونکہ کسی چیز کی مذمت دراصل اس کی ضد کی تعریف ہوتی ہے ،جس طرح امید کی ضد ناامیدی ہے یونہی خوف کی ضد امن اور بے خوفی ہے،جس طرح مایوسی وناامیدی کی مذمت امید کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے یونہی امن وبے خوفی کی مذمت اس کی ضد یعنی خوف کی فضیلت پر دلالت کرتی ہےبلکہ ہم تو یہ  کہتے ہیں کہ امید کے تمام تر فضائل درحقیقت خوف کی فضیلت پر بھی دلیل ہیں کیونکہ امید اور خوف دونوں آپس میں لازم وملزوم ہیں۔جو شخص کسی محبوب چیز کے ملنے کی امید کرتا ہے وہ لازمی طور پر اس سے محرومی سے خوف زدہ بھی ہوتا ہےاگر اسے اس چیز سے محرومی کا خوف نہ ہو تو وہ دراصل اس سے محبت ہی نہیں کرتا اور نہ ہی وہ اس چیز کے انتظار کے ذریعے اس کی امید کرنے والا کہلا ئے گا۔
	خوف اور امید لازم وملزوم ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے جدا ہونا ناممکن ہےالبتہ یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرےپر غالب آجائےاور یہ بھی ممکن ہے کہ دل ان میں سے کسی ایک میں  مشغول ہو جائے اور دوسرے سے غفلت کے باعث فی الحال اس کی طرف متوجہ نہ ہو،اس کی وجہ یہ ہے کہ خوف اور امید کے لئے یہ شرط ہے کہ جس چیز  کے بارے میں شک ہو یہ اس سے متعلق ہوتے ہیں جبکہ معلوم چیز کی نہ تو امید کی جاتی ہے اور نہ اس سے خوف۔بندے کو جو چیز محبوب ہو لازمی طور پر اس کا ہونا، نہ ہونا دونوں ممکن ہوتے ہیں۔اس کے ہونے کی صورت دل کو راحت بخشتی ہے اور  اسی راحت کا نام امید ہے جبکہ اس کے ناہونے کی صورت دل کو تکلیف دیتی ہے جسے خوف کہا جاتا ہے۔جس چیز کی امید کی جاتی ہے اس میں شک ہو تو دونوں صورتیں(یعنی خوف اور امید)ایک دوسرے کے مقابل ہوتی ہیں البتہ شک کی دوطرفوں میں سے ایک بعض اوقات بعض اسباب کے باعث ترجیح پاجاتی ہے اسے ظن کہتے ہیں اور یہ بات ایک دوسرے پر غلبے کا سبب ہوتی ہے۔اگر پسندیدہ چیز کے وجود کاغالب گمان ہو تو امید قوی ہوجاتی ہے جبکہ خوف اس کے مقابلےمیں پوشیدہ ہوتاہے اسی طرح اس کے برعکس بھی ہوتا ہے،دونوں صورتوں میں یہ ایک دوسرے کو