سے زیادہ امن میں کون ہوگا ؟فرمایا:جو آج دنیا میں سب سے زیادہ خوف رکھنے والا ہے۔
حضرت سیِّدُناابومحمدسَہل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:تم اس وقت تک خوفِ خدا کی دولت کو نہیں پاسکتےجب تک حلال روزی نہ اختیار کرلو۔
ڈرانے والوں کی صحبت میں رہنا چاہئے:
حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی خدمت میں عرض کی گئی:اے ابوسعید!ہم ایسے لوگوں کی صحبت میں رہتے ہیں جو ہمیں اس قدر ڈراتے ہیں کہ خوف کی شدت کے باعث ہمارے دل اپنی جگہ سے ہلنے کے قریب ہوجاتے ہیں،ہمیں کیا کرنا چاہئے؟فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!تمہارا ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا جو تمہیں دنیا میں خوف زدہ کرتے رہیں جس کی بدولت تمہیں آخرت میں امن کی دولت حاصل ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ایسے لوگوں کی صحبت میں رہو جو تمہیں دنیا میں بے خوف کردیں اور پھر آخرت میں تمہیں خوف کا سامنا کرنا پڑے۔
حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:جس دل سے خوفِ خدا جدا ہوجائے وہ دل ویران وبرباد ہوجاتا ہے۔
عبادات کے قبول نہ ہونے کا خوف:
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس فرمانِ باری تعالیٰ:
وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَجِلَۃٌ (پ۱۸،المؤمنون:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈررہے ہیں۔
میں کیا چوری اور زنا کرنے والا شخص مراد ہے؟تو میرے سرتاج،صاحِبِ معراجصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:نہیں بلکہ وہ شخص مراد ہے جو روز ہ رکھتا،نماز پڑھتااور صدقہ وخیرات کرتا ہے اور اس بات کا خوف رکھتا ہےکہ میری یہ عبادات قبول نہیں ہوں گی۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب التوفی علی العمل ،۴/ ۴۶۷، حدیث :۴۱۹۸