Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
473 - 882
 ہے تو اسے دو بھلائیاں حاصل ہوتی ہیں:عذاب کا خوف اور معافی کی امید (اوروہ ان دونوں کے درمیان ایسے ہوتا ہے)جیسے دوشیروں کے درمیان موجود لومڑی۔
خائفین حساب کتاب سے مامون ہوں گے:
	حضرت سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسےمنقول ہےکہ(اللہعَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتاہے:) میں ہر ایک شخص سے اس کے اعمال کا حساب لوں گا اور اس کے معاملات کی تفتیش کروں گا سوائے پرہیز گاروں کے کہ انہیں حساب کے لئے کھڑا کرنے میں مجھے حیاآتی ہے۔
	ورع اور تقوٰی یہ دونوں نام ایسے معنیٰ سے ماخوذ ہیں جس کے لئے خوف شرط ہے اس لئے اگر کوئی شخص خوف کی دولت سے محروم ہوتو اس پر ان دونوں ناموں کا اطلاق درست نہیں۔اسی طرح یہ بات بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ ذکرکے بارے میں جو فضائل وارد ہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں خائفین کے لئے خاص فرمایاہے۔چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
سَیَذَّکَّرُ مَنۡ یَّخْشٰی ﴿ۙ۱۰﴾  (پ۳۰،اعلٰی:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:عنقریب نصیحت مانے گا جوڈرتا ہے۔
	ایک مقام پرارشاد فرمایا:  وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾ (پ۲۷،الرحمٰن:۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجواپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دوجنتیں ہیں۔
دو خوف اور دو امن:
	مصطفٰے جانِ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتا ہے:مجھے اپنی عزت کی قسم!میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہ کروں گا۔جو مجھ سے دنیا میں بے خوف رہے گا اسےقیامت کے دن خوف زدہ کروں گا اورجو دنیا میں مجھ سے خوف زدہ رہے گا اسے روزِ قیامت امن عطا کروں گا۔(1)
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے پیارے حبیب،حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد لابن المبارک، باب ماجاء فی الخشوع  والخوف ، ص ۵۰، حدیث : ۱۵۷