Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
472 - 882
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ (پ۲۶،الحجرات:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہکے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
	لیکن تم  یہ کہتے تھے کہ فلاں شخص فلاں کا بیٹا ہے اور فلاں شخص فلاں سے زیادہ مال دار ہے۔ آج میں تمہارے وضع کردہ نسب کو پست اور اپنے مقررہ نسب کو بلند کروں گا۔(پھر ارشادہوگا:)متقین کہا ں ہیں؟ان کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور یہ لوگ اس کے پیچھے چلتےہوئے بغیر حساب وکتاب جنت میں اپنے ٹھکانوں پر پہنچ جائیں گے۔ (1) 
حکمت و دانائی کی بنیاد:
	حضورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:رَاْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللہ یعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا خوف حکمت ودانائی کی بنیاد ہے۔“(2)
	حضورنبیّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا:اِنْ اَرَدْتَّ اَنْ تَلْقَانِیْ فَاَكْثِرْ مِنَ الْخَـوْفِ بَعْدِیْیعنی اگر تم مجھ سےملنا چاہتے ہوتو میرے بعدبھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے بہت ڈرتے رہنا۔
	حضرت سیِّدُنا فضیل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جو شخص خوفِ خدااختیار کرتا ہے تو یہ خوف ہر ایک بھلائی  کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
خوفِ خدا کی برکت:
	حضرت سیِّدُناابوبکر شبلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:جب بھی میں کسی  دناللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے خوف کرتا ہوں تواس دن مجھ پر حکمت وعبرت  کا ایسا دروازہ کھل جاتا ہے جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوتا ۔
دوبھلائیاں:
	حضرت سیِّدُنایحییٰ بن معاذرازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:جو بھی مومن کسی برائی کا ارتکاب کرتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المعجم الاوسط،۳/ ۲۵۶، حدیث:۴۵۱۱
2…شعب الایمان، باب فی الخوف من اللہ،۴۷۰/۱،حدیث :۷۴۴