چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ (پ۲۶،الحجرات:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہکے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
اللہعَزَّ وَجَلَّ نے تمام اولین وآخرین کو تقوٰی اختیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشادفرمایا:
وَلَقَدْ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَ اِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللہَ ؕ (پ۵،النساء:۱۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے شک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہ اللہسے ڈرتے رہو ۔
نیز ارشاد فرمایا: وَخَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اورمجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔
چنانچہ، اپنے خوف کا حکم دے کر اسے لازم قرار دیا بلکہ اسے ایمان کے لئے شرط بتایا ۔یہی وجہ ہے کہ کسی مومن کے بارے میں اس بات کا تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خوفِ خدا سے یکسر خالی ہو ،مومن کے دل میں خوفِ خدا ضرور ہوتا ہے اگرچہ کمزور ہو اور خوف کی یہ کمزوری اس کی معرفت اور ایمان کی کمزوری کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
تقوٰی کی فضیلت:
تقویٰ کی فضیلت کے بارے میں پیارے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب اولین وآخرین کو ایک معلوم دن کے لئے جمع فرمائے گا تو انہیں ایسی آواز سے ندا فرمائے گا جسے دور والے بھی ایسے ہی سنیں گے جیسے پاس والے سنتے ہیں ۔ارشاد فرمائے گا:اے لوگو!جب سے میں نے تمہیں پیدا کیا تب سے لے کر آج تک میں نے تمہارے بارے میں کلام نہیں کیا آج تم میرے لئے خاموش رہو۔یہ تمہارے اعمال ہیں جو تم پر پیش کئے جارہے ہیں۔اے لوگو!ایک نسب میں نے مقرر کیا اور ایک نسب تم لوگوں نے مقرر کیا پھر تم میرےمقرر کردہ نسب کو پست اور اپنےبنائے ہوئے نسب کو بلند کرتے ہو۔میں نے یہ کہا: