علم کا پھل اور نتیجہ:
نیز وہ تمام آیات جن میں علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے وہ خوف کی فضیلت پر بھی دلالت کرتی ہیں کیونکہ خوف علم کا پھل اور اس کا نتیجہ ہےاسی لئے حضرت سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے منقول ہے کہ خائفین کو رفیْقِ اعلیٰ کا قرب حاصل ہوگا اور اس معاملے میں کوئی ان کا شریک نہ ہوگا۔
غور کیجئے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نےکس طرح خائفین کو رفیْقِ اعلیٰ کی رَفاقت کے لئے خاص فرمادیا ہے ،اس کا سبب یہ ہے کہ خائفین عُلَمائےکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ہوتے ہیں ،عُلَما کو انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کا وارث ہونے کے سبب ان کی رفاقت کا شرف حاصل ہوتا ہے اوررفیْقِ اعلیٰ کی رفاقت انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور ان کے لواحقین کے ساتھ خاص ہےاسی لئے جب تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کومرضِ وصال کے دوران دنیا میں رہنے یااللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں حاضر ہونے کا اختیار دیا گیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:اَسْئَلُكَ الرَّفِيْقَ الْاَعْلٰىیعنی (اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!)میں تجھ سے رفیْقِ اعلیٰ کا سوال کرتا ہوں۔(1)
بہرحال اگر اس بات کی طرف نَظَر کی جائے کہ خوف کس چیز سے پیدا ہوتا ہے تو وہ علم ہے اور اگر خوف کے پھل کی طرف توجہ کی جائے تو وہ ورع اور تقوٰی ہے اور ورع وتقوٰی کے فضائل پوشیدہ نہیں ہیں یہاں تک کہ جس طرح حمداللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے اوردرودوسلام سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كے لئے خاص ہےاسی طرح عاقبت کا لفظ متقین کے ساتھ خاص ہوگیا ہے۔چنانچہ خطبے میں کہا جاتاہے:”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍوَّاٰلِهٖ اَجْمَعِيْنَ“نیزاللہ عَزَّ وَجَلَّ نےتقوٰی کی اضافت اپنی طرف فرماکر اسے خاص فرمایا ہے۔چنانچہ،ارشادِباری تعالیٰ ہے:
لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ (پ۱۷،الحج:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہکو ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے۔
تقوٰی کا معنیٰ یہ ہے کہ خوفِ خدا جن چیزوں سے بچنے کا تقاضا کرتا ہے انسان ان چیزوں سے باز رہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم و وفاتہ،۳/ ۱۵۴،حدیث :۴۴۳۷