ہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معرفت رکھنے والے ہیں۔ پھر انہوں نے جام صفا نوش کیا تو طویل آزمائش پر صبر کے وارث ٹھہرے۔ پھر ان کے دل عالَمِ مَلکُوْت میں خودرَفتہ ہوگئے اور ان کے اَفکاروخیالات عالَمِ جَبَرُوْت کے چُھپے لشکروں کے درمِیان دورہ کرنے لگے اور انہوں نے ندامت کے سائبان تلے اپنی خطاؤں کا صحیفہ پڑھا تو اپنی جانوں کو جَزع وفَزع میں ڈال دیا حتّٰی کہ وہ پرہیزگاری وپارسائی کی سیڑھی سے زُہد کے بلند مقام تک پہنچ گئے۔ انہیں ترکِ دنیا کی کڑواہٹ میٹھی اور بستر کی سختی نرم معلوم ہونے لگی یہاں تک کہ وہ سلامتی کی گرہ اورنجات کی رسی تھام کر کامیابی سے ہم کنار ہوگئے۔ ان کی روحیں بلندی کی طرف بڑھیں تو نعمتوں کے باغات میں جاپہنچیں۔ انہوں نے بحْرِحیات میں غوطہ لگایا، جزع وفزع کی خندقوں کو بھردیا اور خواہشات کے پلوں کو پار کیا حتّٰی کہ وہ علم کے صحن میں جااُترے اور تالابِ حکمت سے سیراب ہوئے، مہارت وہوشیاری کی کشتی میں سوار ہوئے اور سلامتی کے سمندر میں نجات دینے والی ہوا کو پیچھے چھوڑ دیا یہاں تک کہ راحت کے باغوں اور عزت و کرامت کی کان تک پہنچ گئے۔“
اس قدر آیات ،اَحادیث اور اَقوالِ بُزرْگانِ دین اس بات کے بیان میں کافی ہیں کہ ہر صحیح ودرست توبہ لامحالہ قبول ہوتی ہے۔
مُعْتَزِلَہ کا اعتراض اور اس کا جواب:
اگر کہا جائے کہ کیا تم بھی معتزلہ کی طرح یہ کہتے ہو کہ” توبہ قبول کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر واجب ہے؟“
تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے جوبیان کیا ہے اس سے میری مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ ”توبہ قبول کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر واجب ہے۔“بلکہ میری مرادوہی ہے جو کہنے والے کی اپنی اس بات سے ہوتی ہے کہ ”اگر کپڑے کو صابن سے دھویا جائے تو میل کا دور ہونا لازم ہے۔ اگر پیاسا پانی پئے گاتو پیاس کازائل ہونالازمی بات ہے۔ اگر کوئی کافی وقت تک پانی نہ پئے تو پیاس لگنا ضروری ہے اور اگر وہ پیاس پر ڈٹا رہے تو موت واجب ہے۔“ ان میں سے کسی بات سے بھی وہ مرادنہیں جو مُعْتزِلَہ باری تعالیٰ پر( کاموں کے) واجب ہونے سے مراد لیتے ہیں بلکہ میں کہتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اطاعت وعبادت کو گناہوں کے کَفّارے کے لئے اور نیکی کو بدی کے مٹانے کے لئے پیدا فرمایاہے جیسے پانی کو پیاس بجھانے کے لئے پیدا کیا۔البتہ!اگر مَشِیَّت اس پر سبقت