Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
468 - 882
 شرم گاہ اور آنکھ کی لذتوں سے آشنا ہوتا ہے جو کہ مختلف رنگوں اور خوبصورت چہروں کو دیکھنے سے حاصل ہوتی ہیں۔الغرض !ایسا شخص صرف ان لذتوں سے آشناہوتا ہے جن میں چوپائے بھی اس کے شریک ہیں جبکہ عارفین کو ایسی لذتیں حاصل ہوتی ہیں جو کسی اور کے حصے میں نہیں آتیں۔
	جو شخص ان باتوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کے سامنے ان باتوں کی تفصیل اور شرح بیان کرنا حرام ہے اور جو انہیں سمجھنے کا اہل ہوتا ہے وہ بذاتِ خود غور وفکر کرکے انہیں سمجھ سکتا ہے ، کسی دوسرے کی وضاحت کا محتاج نہیں ہوتا ۔
	خوف کی مختلف اقسام کا بیان یہاں مکمل ہوتا ہے،ہماللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اس بات کا سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ہمیں اچھے کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔
چوتھی فصل:			خوف کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
	خوف کی فضیلت کو جاننے کے دو طریقے ہیں:(۱)…غوروفکر(۲)…آیات واحادیث۔
غوروفکر:
	کسی چیز کی  فضیلت کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ بندے کو  کس قدراللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملاقات کی سعادت کے قریب کرتی ہے کیونکہ ایک بندے کا سب سے بڑا مطلوب و مقصود  یہ ہوتا ہے کہ وہ سعادت مندی کو پالے او ر سب سے بڑی سعادت مندی یہ ہے کہ اسے اپنے مالک ومولیٰعَزَّ  وَجَلَّکی ملاقات اور اس کے قُرب کی دولت حاصل ہوجائے ۔ہر وہ چیز جو اس مقصد کو پانے میں مُعاوِن ثابت ہو وہ باعِثِ فضیلت ہے اور اس کی فضیلت اسی قدرہے جس قدروہ معاون ہو۔یہ بات ظاہر ہوچکی ہے  کہ آخرت میںاللہ  عَزَّ  وَجَلَّکی ملاقات کی سعادت پانے کاصرف یہ راستہ ہے کہ دنیا میں اس کی محبت والفت کو حاصل کیا جائے۔محبت کا حاصل کرنا حصولِ معرفت کے بغیر ناممکن ہےاورمعرفَتِ الہٰی اس کے جَلال وقدرت میں غور وفکر کرتے رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّسے انس اس کی محبت اور اس کی نعمتوں کو یاد کرتے رہنے سے نصیب ہوتا ہے ، ذکر وفکر کی مذکورہ نعمتیں دل سے دنیا کی محبت کا قَلع قَمع کرنے پر حاصل ہوتی ہیں اور محبَّتِ دنیا کا دل سے خاتمہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ بندہ دنیاوی لذّات اور خواہِشات کو ترک کردے،خواہشات کو ترک کرنے کا صرف ایک ہی  طریقہ ہے کہ