Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
467 - 882
 بے نیازی اور بے پرواہی کی معرفت کافی ہے۔
خائفین کا دوسرا طبقہ:
٭…خائفین کا دوسراطبقہ ان حضرات پر مشتمل ہے جن کے دلوں میں ایسی چیزوں کا خوف طاری ہوتا ہے جو خود ناپسندیدہ اور قابِلِ نفرت ہیں۔یہ حضرات جن چیزوں سے خوف زدہ ہوتے ہیں ان کی درج ذیل اقسام ہیں:
	(۱)…موت کی سختیاں اور شدت کا خوف۔(۲)…منکر نکیر کے سوالات کا خوف۔(۳)…عذابِ قبر کا خوف۔(۴)…قیامت کی ہولناکیوں کا خوف۔(۵)…اللہعَزَّ وَجَلَّکے سامنے کھڑے ہونے کی ہیبت کا خوف۔ (۶)…پوشیدہ رازو ں کے کھلنےسے حیاکا خوف۔(۷)…میدانِ قیامت میں ایک ایک چیز کے بارےمیں سوال کا خوف۔(۸)…پُل صراط،اس کی تیزی اور اس پر سے گزرنے کی کیفیت کا خوف۔ (۹)… دوزخ،اس کے جوش مارنے اور اس کے ہولناک مَناظر کا خوف۔(۱۰)…جنت سے محرومی کا خوف۔(۱۱)…جنت کے بلند درجات سے محروم رہنے کا خوف۔(۱۲)…اللہ عَزَّ   وَجَلَّکی زیارت سے محرومی کا خوف۔
	یہ تمام وہ باتیں ہیں جو  خود ناپسندیدہ ہیں اس لئے ان سے لازمی طور پر خوف زدہ ہونا چاہئے۔مذکورہ باتوں سے خوف رکھنے والوں کے احوال مختلف ہوتے ہیں اور ان میں سب سے بلند مرتبہ خوف اس شخص کا ہے جواللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دوری اور اس کی زیارت سے محرومی سے خوف زدہ ہو۔خوف کی یہ قسم عارفین کا خوف ہے جبکہ اس سے پہلے مذکور دیگر خوف عابدین،صالحین،زاہدین اور دیگر باعمل مسلمانوں کا حصہ ہیں۔
	جس شخص کو کامل معرفت کی دولت حاصل نہیں ہوتی اور نہ اس کی دلی آنکھیں روشن ہوتی ہیں اسے نہ تواللہ عَزَّ  وَجَلَّسے وصال کی لذت کا شعور ہوتا ہے اور نہ ہی وہ  اس سےجدائی اور دوری کے درد سے واقف ہوتا ہے،اس کے سامنے جب اس بات کا  تذکرہ ہوتا ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والا دوزخ سے نہیں  بلکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّکی زیارت سے محرومی سے خوف زدہ ہوتا ہے تو اس کے دل میں اس بات کا انکار پیدا ہوتا ہے اور وہ تعجب کا شکار ہوجاتا ہے۔اگر شریعت نے اس بات کی مُمانَعَت نہ فرمائی ہوتی تو شاید وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی زیارت کی لذت کا ہی انکار کربیٹھتا۔ اس کا اپنی زبان سے اس بات کا اقرار صرف تقلید کی ضرورت کے باعث ہوتا ہے ورنہ اس کے دل میں اس بات کی تصدیق نہیں ہوتی ۔اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف پیٹ،