منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی:”اے داؤد !مجھ سے اس طرح خوف کرو جس طرح تم نقصان پہنچانے والے درندے سے خوف کرتے ہو۔“(1)
اس مثال سے آپ کو حاصِلِ معنیٰ تو سمجھ آسکتا ہے لیکن اس کے سبب سے آگاہی نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے سبب سے واقف ہوناتقدیرکے راز پر واقف ہونا ہے جو صرف اس کی اہلیت رکھنےوالوں کے ساتھ خاص ہے۔
درندے سے خوف کا سبب:
حاصِلِ معنیٰ یہ ہے کہ انسان درندے سے اس لئے خوف زدہ نہیں ہوتا کہ اس نے درندے کو کوئی نقصان پہنچایا ہے بلکہ اس درندے کی صفات مثلاً:اس کی پکڑ،رُعب ودبدبہ اور ہیبت کے سبب خوف زدہ ہوتا ہےنیز اسے پتا ہوتا ہے کہ یہ درندہ جو چاہے کرسکتا ہے اسے کسی بات کی پروا نہیں۔اگر یہ انسان کوماردے تو اس کے دل میں نرمی پیدا ہوگی نہ موت سے اسے غم ہوگا۔اگر یہ انسان کو چھوڑ دے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوگی کہ اس نے شفقت کرتے ہوئے اور زندہ رہنے کے لئےچھوڑا ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہوگا کہ یہ انسان اس کے نزدیک اس قدر بے وَقْعَت ہےکہ اس نے توجہ ہی نہیں دی ۔کوئی زندہ رہےیا مردہ بلکہ ہزاروں انسانوں کی ہلاکت اور ایک چیونٹی کی ہلاکت اس کے نزدیک برابر ہے کیونکہ اس سے اس کی درندگی اور قوت و طاقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَعرفت حاصل کرلے وہ باطنی مشاہدے کے ذریعے جو کہ ظاہری مشاہدے سے زیادہ مضبوط،قابلِ اعتماد اور روشن ہے ا س بات کی معرفت بھی حاصل کرلیتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے اس فرمانِ عالی شان میں سچا ہے:”هٰؤُلَاءِ اِلَى الْجـَنَّةِ وَلَا اُبَالِیْ وَهٰؤُلَاءِ اِلَى النَّارِ وَلَا اُبَالِیْ یعنی یہ لوگ جنت میں جائیں مجھے پروا نہیں اوریہ لوگ دوزخ میں جائیں مجھے پروا نہیں۔“(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف پیدا کرنے والے متَعَدَّد اَسباب میں سے اس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین،۱/ ۴۰۲
2…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب البر والاحسان،باب ماجاء فی الطاعات وثوابھا،۱/ ۲۷۷،حدیث:۳۳۹
مکمل حدیث یوں ہے :اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامکے دائیں کاندھے سے ایک سفید مخلوق نکالی جس کے متعلق ارشادفرمایا :”یہ لوگ جنت میں جائیں مجھے پروا نہیں۔“اور بائیں کاندھے سے کوئلہ کی طرح سیاہ مخلوق نکالی جس کے متعلق ارشادفرمایا:”یہ لوگ دوزخ میں جائیں مجھے پروا نہیں۔ “(مسند احمد،حدیث ابی الدرداء عویمر،۱۰/ ۴۱۷، حدیث:۲۷۵۵۸)