ملتی ہے تو اس کے پاس بھی کوئی ایسا وسیلہ نہیں ہوتا جس کے باعث اسے یہ سعادت نصیب ہوتی ہے۔ گنہگار کےحق میں گناہ کا اور نیکو کار کے حق میں نیکی کا فیصلہ کردیا گیا ہے چاہے وہ اسے پسند کریں یا ناپسند۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بغیر کسی سابقہ وسیلے کے سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اَعْلٰی عِلِیِّیْن(جنت میں سب سے بلند مقام) عطا فرمایا اور بغیر کسی سابقہ خطا کے ابوجہل کو اَسْفَلُ السَّافِلِیْن(جہنم کے سب سے نچلے طبقے) میں گرایا،لہٰذا وہ اس بات کا حق دار ہے کہ اس کی صفتِ جلال کے سبب اس سے خوف کیا جائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کرنے والاشخص اس لئے اس کی اطاعت کرتا ہے کیونکہ اس پر اطاعت کے ارادے کو مسلّط کردیا جاتا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اطاعت کی قدرت عطا فرماتا ہے اور مضبوط ارادے و یقینی قُدرت کے حُصول کے بعد فعل کا واقع ہونا ضروری ہوجاتا ہے ۔اسی طرح گناہ کا ارتکاب کرنے والا شخص اس لئے گناہ کرتا ہے کیونکہ اس پر گناہ کرنے کا مضبوط اور پختہ ارادہ مُسَلَّط کردیا جاتا ہے اور گناہ کے اسباب اور قُدرت فراہم کردی جاتی ہے اور قُدرت وارادے کے حُصول کے بعد فعل کا وقوع ضروری ہوتا ہے ۔
خواہِشِ امام غزالی:
کاش میں یہ جان سکتا کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے ایک شخص کی عزت واِکرام کو لازم کیا اوراسے نیک اعمال کے ارادے کے ساتھ خاص کردیا جبکہ دوسرے شخص کی توہین کوواجب کیا اور اس پر گناہ کی طرف لے جانے والی چیزوں کو مسلط کرکے رحمت سے دور کردیا گیا اور پھر ان باتوں کی نسبت بندوں کی طرف کیوں کی جاتی ہے؟چونکہ ان معاملات کی نسبت بغیر کسی گناہ اور وسیلے کے اَزَلی تقدیر کی طرف کی جاتی ہے اس لئے ہر عقل مند شخص کے نزدیکاللہ عَزَّ وَجَلَّسے خوف کرنا لازمی ہے جو جیسا چاہتاہے فیصلہ فرماتا ہے۔
ہم نےیہاں تک جو کچھ بیان کردیا اس سے آگے تقدیر کا راز ہے جسے کھولنا جائز نہیں۔
مثال کی اہمیت:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات سے خوف کو سمجھنا صرف مثال کے ذریعے ممکن ہےاور اگر شریعت نے مثالیں بیان کرنے کی اجازت نہ دی ہوتی تو صاحِبِ بصیرت شخص اس مُعاملے میں مثال بیان کرنے کی جرأت ہرگز نہ کرتا۔