انہیں کا ایک فرد ہے پھر اس کی موت سے پہلےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے بدبختوں کے گروہ میں سے نکال لیتا ہے اگرچہ موت سے اتنی دیر پہلے جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ دوہا جاتا ہے اور ایک بدبخت شخص سعادت مندوں جیسے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ یہ سعادت مندوں کی طرح ہے بلکہ انہیں کا ایک فرد ہے لیکن اس کی موت سے کچھ دیر قبلاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے سعادت مندوں کے گرو ہ سے خارج فرما دیتا ہے اگرچہ اتنی دیر پہلے جتنی دیر میں اونٹنی کو دوہا جاتا ہے۔ وہ شخص سعادت مند ہے جو اللہعَزَّ وَجَلَّکی قضا سے سعادت مند ہو اور بدبخت وہ ہے جواللہعَزَّ وَجَلَّکی قضا سے بدبخت ہو اور اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔“(1)
اللہعَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر کا خوف رکھنے اور بُرے خاتمے سے ڈرنے والے کا خوف ان دو افراد کے خوف کی طرح ہے جن میں سے ایک اپنےگناہوں اور نافرمانیوں کے سبب خوف زدہ ہے جبکہ دوسرااللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات وصفات،جلال وعظمت اور ان اوصاف کے سبب خوف زدہ ہےجو ڈرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ان میں سے دوسرے شخص کا مقام ومرتبہ پہلے شخص سے اعلیٰ ہے۔ اگرچہ اس کے پاس صِدِّیْقِیْن کے برابر نیک اعمال موجود ہوں لیکن پھر بھی اس کا خوف باقی رہے گا جبکہ پہلےشخص کو اگر نیک اعمال پر استقامت حاصل ہوجائے تو پھر وہ خوف سے محروم ہوکر امن اور دھوکے کا شکار ہوجائے گا۔گناہوں سے خوف نیک بندوں کا جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خوف مُوَحِّدین اورصدیقین کا خوف ہے اور یہ خوفاللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت کا نتیجہ ہے۔ جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات وصِفات کی معرفت حاصل کرتا ہے وہ اس کی ان صِفات کو جان لیتا ہے جو اس بات کی حق دار ہیں کہ بغیر کسی گناہ کا اِرتکاب کئے ان سے خوف کیا جائےبلکہ اگر گناہ گار شخص کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی کامل معرفت حاصل ہوجائے تو وہ اپنے گناہوں کے بجائےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خوف کرنے لگے۔اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ڈر نہ ہوتا تو وہ اسے گناہ کے لئے مسخر کرتا نہ اس کے لئے اس کا راستہ آسان کرتا اور نہ ہی اسباب تیار کرتا کیونکہ گناہوں کے اسباب کا آسان کرنا اپنی بارگاہ سے دور کرنا ہے حالانکہ اس سے پہلے وہ کسی ایسے گناہ کا مرتکب نہیں ہوا جس کی وجہ سے دوسرے گناہ کی آزمائش میں مبتلا ہو اور اس کے اسباب اس کے لئے آسان ہو ں یونہی جس شخص کو نیکی کی توفیق
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب القدر، باب ماجاء ان اللہ کتب… الخ،۴/ ۵۵، حدیث: ۲۱۴۸ ،بتغیر
الابانة لابن بطة،باب ماروی فی الایمان بالقدر...الخ،۴/ ۲۰۸، حدیث: ۱۷۵۷ نوٹ:دارالراية ۱۴۱۸ھ، ریاض