بُرے خاتمے کا خوف:
خوف کی ان تمام اقسام میں سے مُتَّقی حضرات پر بُرے خاتمے کا خوف غالب ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی خطرناک مُعاملہ ہے اور ان سب قسموں میں سے اعلیٰ ترین اور کمالِ معرفت پر دلالت کرنے والا خوف اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر کا خوف ہے کیونکہ خاتمے کا اچھا یا برا ہونا اسی کے تابع ہے اور اسی کی ایک شاخ ہے جو اس سے نکلتی ہے اگرچہ ان دونوں کے درمیان کثیر اَسباب موجود ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کسی شخص کے لئے لوحِ محفوظ میں جو انجام لکھ دیا ہے، خاتمے سے اس کا اظہار ہوتا ہے۔
خاتمے کا خوف رکھنے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر سے ڈرنے والے شخص کی مثال ان دو افراد جیسی ہے جن کے بارے میں بادشاہ نے ایک حکم تحریر کیا ہے ،ہوسکتا ہے کہ وہ حکم ان کے قتل کا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں وزیر بنائے جانے کا حکم دیا ہواور وہ حکم ان دونوں تک نہیں پہنچا۔ان میں سے ایک شخص کا د ل اس وقت کا مُنْتَظر ہےکہ جب وہ فرمان اس کے پاس آئے گا اوروہ اسے کھول کر دیکھے گا تو اس میں سے کیا حکم ظاہر ہوگا جبکہ دوسرے شخص کا دل اس فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ حکم لکھتے وقت بادشاہ کی کیفیت کیا تھی اور اس وقت اس پر رحمت غالب تھی یا پھر وہ غُصّے میں تھا۔دوسرے شخص کی توجہ سبب کی طرف ہے جبکہ پہلا شخص فَرْع یعنی حکم کی طرف متوجہ ہے اور سبب کی طرف متوجہ ہونا فرع کی طرف توجہ سے افضل ہے۔یونہیاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لوحِ محفوظ میں جو اَزَلی تقدیر لکھ دی ہے اس کی طرف متوجہ ہونا خاتمے کی طرف توجہ سے افضل ہے جس کا ظُہُور آخرت میں ہوگا۔
اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےانبیاکےسردار،رسولِ مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےمنبر پرتشریف فرما ہوکراپنی دائیں مٹھی کو بند کرکے ارشاد فرمایا:”یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب ہے جس میں اس نےتمام جنتیوں کے،ان کے باپوں کے اور قبیلوں کے نام تحریر فرمادئیے ہیں،اب اس میں کوئی زیادتی ہوسکتی نہ کمی۔“پھر بائیں مٹھی کو بند کرکے ارشاد فرمایا:”یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب ہے جس میں اس نے تمام دوزخیوں کے، ان کے باپوں کے اور قبیلوں کے نام تحریر فرمادیئے ہیں، اب اس میں کوئی زیادتی یا کمی نہیں ہوسکتی۔ ایک سعادت مند شخص بدبختوں جیسے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بدبختوں جیسا ہے بلکہ یہ