(۱)…توبہ سے پہلے موت کا خوف(۲)…توبہ کرنے کے بعد اس کے ٹوٹنے کا خوف(۳)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے جو عہد کیاہے اس میں عہد شِکنی کا خوف (۴)…اللہ عَزَّ وَجَلَّکے تمام حقوق اداکرنے سے عاجز آجانے کا خوف(۵)…دل کی نرمی کی دولت سے محروم ہوکر دل کے سخت ہوجانے کا خوف(۶)…سیدھے راستے سے بھٹک جانے کا خوف(۷)…دل جن خواہشات سے مانوس ہے ان کی اتباع کی عادت کے غلبے کا خوف(۸)…اس بات کاخوف کہ میں نے جن نیکیوں پربھروسا کرلیا ہے اور ان کے سبب لوگ میری عزت کرتے ہیں کہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے انہی کے حوالے کرکے اپنی امداد سے محروم نہ فرمادے(۹)…اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا کردہ کثیر نعمتوں کے سبب تکبُّر کا شکار ہوجانے کا خوف(۱۰)…غیْرُاللہ میں مشغول ہوکر اللہ عَزَّ وَجَلَّسے غافل ہوجانے کاخوف (۱۱)…مسلسل ملنے والی نعمتوں کے بارے میں اس بات کا خو ف کہ کہیں یہ اِسْتِدْراج تو نہیں(۱۲)… اس بات کا خوف کہ روزِ قیامت میرے نیک اَعمال میں موجود کوتاہیاں منکشف ہوجائیں گی اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس طرح میری پکڑ فرمائے گا جو میرے وہم وگمان میں بھی نہیں ہے(۱۳)…اس بات کا خوف کہ لوگوں کی غیبت،خیانت اور دل میں ان کے لئے بُرائی رکھنے کے سبب وہ روزِ قیامت مجھ سے اپنے حق کا مطالبہ کریں گے (۱۴)…یہ خوف کہ نہ جانے بقیہ زندگی میں مجھ سے کون سے اعمال صادر ہوں گے (۱۵)… گناہوں کی سزا دنیا میں ہی ملنے کا خوف (۱۶)…مرنے سے پہلے رُسوائی کا خوف (۱۷)…دنیوی رنگینیوں کے دھوکے میں مبتلا ہونے کا خوف(۱۸)…اس بات کا خوف کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتو میرے دل کی حالت پر مُطَّلع ہے لیکن میں غفلت کا شکار ہوں(۱۹)…بُرے خاتمے کا خوف(۲۰)…اللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر کا شکار ہوجانے کا خوف۔
ہرخوف کا اپناایک فائدہ:
یہ وہ باتیں ہیں جن سے عارِفین خوف زدہ رہتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک خوف کا اپنا ایک الگ فائدہ ہے۔ مثلاً:جس چیز سے خوف ہے بندہ اس تک لے جانے والی چیزوں سے احتیاط کرتا ہے ۔جسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ میری کوئی عاد ت مجھ پر غالب آکر نقصان پہنچائے گی وہ اس عادت کو ترک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔جسے یہ خوف لاحق ہوجائے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّمیرے دلی خیالات پر مطلع ہے تووہ اپنے دل کو وساوس سے پاک کرنے میں لگ جاتا ہے۔اَلْغَرَض !خوف کی مذکورہ اقسام میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا فائدہ ہے۔