کے مقام تک پہنچ جائے۔اس درجے کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ خوف دل پر ایسا غالب آجاتا ہے کہ بندے کے ظاہر وباطن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ ہر کسی کا خیال دور ہوجاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل میں غیرِخدا کے لئے کوئی جگہ نہیں بچتی ۔خوف کے قابلِ تعریف درجات میں سے یہ سب سے بڑا درجہ ہے اور اسے پانے کے لئے بھی صحت اور عقل کی سلامتی ضروری ہے۔خوف کی یہ کیفیت اگر اعتدال کی حد سے تجاوز کرکے صحت اور عقل کے فسادکا باعث بن جائے تو پھر یہ ایک مرض ہے جس کا علاج کرنا ضروری ہے۔اگر ایسا خوف بھی قابلِ تعریف ہوتا تو اُمید وغیرہ کے اسباب کے ذریعے اس کا علا ج کرنا واجب نہ ہوتا۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا ابومحمد سہل تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کئی کئی دنوں تک بھوک کو اختیار کرنے والے مریدین سے فرمایا کرتے تھے:اپنی عقلوں کی حفاظت کرو کیونکہ ناقِصُ الْعَقْل شخصوَلِیُّاللہ نہیں ہوسکتا۔
تیسری فصل: خوف والی اشیاءکی اقسام
اس بات کو ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ خوف مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز کے اندیشے کے سبب پیدا ہوتا ہےپھر وہ چیز بذاتِ خود ایسی ہوتی ہے کہ اسے ناپسند کیا جائے مثلاً: آگ یا پھر کسی ناپسندیدہ چیز تک پہنچانے کے سبب اس سے نفرت کی جاتی ہےمثلاً: گناہوں سے اس لئے نفرت کی جاتی ہے کہ یہ آخرت میں عذاب میں مبتلا ہونے کا سبب بن سکتے ہیں یا پھر بیمار شخص نقصان دہ پھلوں کو اس لئے ناپسند کرتا ہے کیونکہ یہ اسے موت تک لے جاسکتے ہیں۔خوف رکھنے والے ہر شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دل میں ان دونوں میں سے کسی ایک صورت کا تصوُّر جما ئے اور اس کے دل میں اس کے انتظار کی کیفیت اس قدر مضبوط ہوجائے کہ اس ناپسندیدہ چیز کے احساس سے اس کا دل جلنے لگے۔خائفین کے دلوں پر جن باتوں کا خوف غالب ہوتا ہے ان کے اعتبار سے خائفین کے مختلف مقامات ہیں۔
خائفین کا پہلا طبقہ:
٭… خائِفِیْن کا پہلا طَبَقَہ ان حضرت پرمشتمل ہے جن کے دلوں پر ایسی چیزوں کا خوف طاری ہوتا ہے جو بذاتِ خود ناپسندیدہ نہیں بلکہ ناپسند چیزوں تک لے جانے کے باعِث قابِل نفرت ہیں۔ ان کے دلوں پر طاری ہونے والے خوف کی درج ذیل اقسام ہیں: