کی یہ حالت قابلِ َمذمَّت کیسے ہوسکتی ہے؟
جواب:یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ مذکورہ شخص کےخوفِ خدا کے سبب فوت ہونے پر شہید ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ اگر وہ اسی وقت خوف کے علاوہ کسی اور سبب سے ہلاک ہوتا تو اسے شہادت کا مرتبہ حاصل نہ ہوتا تو اس اعتبار سے تویہ فضیلت کی بات ہے لیکن اگراسی معاملے کو دوسرے اعتبار سے دیکھا جائے کہ مذکورہ شخص اگر زندہ رہ کر طویل عمر پاتا اور اپنی زندگی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت اور اس کی شریعت پر عمل کرنے میں گزارتا تو پھر مذکور ہ شہادت میں کوئی فضیلت نہیں ہے کیونکہ فکر ومجاہدہ کرتے ہوئے اور معرفت کے درجات میں ترقی کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ پر چلنے والے خوش نصیب شخص کو ہر ہر لمحے میں نہ صرف ایک بلکہ کئی شُہَدا کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔اگر یہ بات نہ ہو تو پھر ایسا بچہ جسے قتل کردیا گیا یا پھر ایسا پاگل شخص جسے کسی درندے نے چیر پھاڑ کر کھالیا اس کا مرتبہ بھی ان انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام سے بلند ہونا چاہئےجنہوں نے اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعد وصال فرمایا تھا اور ظاہر ہےکہ یہ ناممکن ہے۔بہرحال اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتے ہوئے طویل زندگی پانا سب سے بڑی سعادت ہےاور ہر وہ چیز جو انسان کی عمر،عقل یا پھر بنیادی صحت جس کے بغیر انسان اپنی عمر سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا ،ان میں سے کسی کو نقصان پہنچائے تو وہ چیز اس اعتبار سے نقصان کا باعث ہے اگرچہ کسی دوسرے اعتبار سے اس کی بعض اقسام باعثِ فضیلت ہی کیوں نہ ہوں،جیسے شہادت اپنے سے کم تر درجات کے اعتبار سے بہت بڑی فضیلت اور سعادت ہے نہ کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور صِدِّیْقِیْنرَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین كے مرتبے کے اعتبار سے ۔
اثر کے اعتبار سے خوف کے مختلف دَرَجات:
خوف اگر انسان کو عمل کی طرف راغب نہ کرے تو پھر اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور یہ اس کوڑے کی طرح ہے جو جانور کی رفتار میں اضافہ نہ کرے۔خوف اگر بندے کو عمل پر ابھارتا ہے تو پھر اثر کے اعتبار سے اس کے مختلف درجات ہیں ۔اگر یہ بندے کو صرف عفت یعنی شہوات کے تقاضوں پر عمل پیرا ہونے سے باز رکھتا ہےتو اس کابھی ایک درجہ ہے،اگر اس کی بدولت بندے کو ورع کی دولت حاصل ہو تو پھراس کا درجہ ماقبل درجے سے بڑا ہے جبکہ خوف کی بدولت حاصل ہونے والا سب سے بڑا درجہ یہ ہے کہ بندہ صدیقین