Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
46 - 882
 والوں کے پاس بیٹھا کرو کیونکہ وہ بہت زیادہ نرم دل ہوتے ہیں۔“(1)
(12)…ایک بُزرْگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”میں جانتا ہوں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کب  میری مغفرت فرمائے گا۔“ عرض کی گئی:” کب فرمائے گا؟“ارشاد فرمایا:” جب وہ میری توبہ قبول فرمائے گا۔“
توبہ سے محرومی کاخوف:
(13)…ایک بزرگ فرماتے ہیں:”مجھے نجات وبخشش سے محرومی کا اتناخوف نہیں جتنا توبہ سے محرومی کا خوف ہے۔“مطلب یہ کہ مَغْفِرَت وبخشش توبہ کے لَوازِمات میں سے ہے، توبہ کے بعد لازمی پائی جاتی ہے۔
20 سال اطاعت ،20سال نافرمانی:
(14)…منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک نوجوان تھاجس نے 20 سال تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کی پھر 20برس تک  اس کی نافرمانی کرتا رہا۔پھر ایک دن آئینہ میں دیکھا کہ اس کی داڑھی میں سفیدی آچکی ہے۔ پس یہ اسے تکلیف دہ لگا تو اس نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:”اےمیرے معبود عَزَّ  وَجَلَّ!میں نے 20سال تیری اطاعت میں گزارے پھر 20سال تک تیری نافرمانی کرتا رہا پس اب اگر میں توبہ کروں تو کیا تُوقبول فرمائے گا؟“ تو اس نے کسی کہنے والے کی صرف آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھاکہ”تم نے ہم سےدوستی کی تو ہم نے تمہیں دوست بنایا اور تم نے ہمیں چھوڑا تو ہم نے تمہیں چھوڑدیا اور تم نے ہماری  نافرمانی کی تو ہم نے تمہیں مہلت دے دی اور اگر تم لوٹ آئے ہو تو ہم تمہیں قبول کرتے ہیں۔“
توبہ والوں کی عجیب شانیں:
(15)…حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بعض بندوں نے خطاؤں کے درخت اپنی آنکھوں کے سامنے نَصْب کرلئے اس طرح کہ دل بھی انہیں دیکھتے رہیں۔ انہوں نے ان کو توبہ کے پانی سے سیراب کیاتو ان پر نَدامَت اور غم کے پھل لگ گئے۔ پھر وہ بغیرکسی جنون کے دیوانے ہوگئے اور بغیر عاجز ہوئے اور بغیرکسی گونگے پن کے کُندذہن ونابَلَد ہوگئے حالانکہ بڑے فصیح وبلیغ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبة ، کتاب الزھد ، کلام عمر بن خطاب،۸/ ۱۵۰،حدیث : ۲۴