Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
459 - 882
 سامنا ہے جس سے بچنا چاہئے لیکن وہ اسے دور کرنے پر قادر نہیں،اس صورت میں چونکہ بندے کی کمزوری کا اظہار ہے اس لئے عجز قابلِ تعریف ہے ورنہ درحقیقت علم اور قُدرت محمود ہیں ۔ہر وہ صفت جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا وصف بیان کیا جاسکے وہ محمود ہے جبکہ جس صفت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکا وصف بیان کرنا جائز نہ ہواس میں درحقیقت کوئی کمال نہیں،ایسی صفت اپنے سے بڑی کسی کمزوری کے اعتبار سےہی  قابلِ تعریف ہوتی ہےمثلاً دوا کی تکلیف کو برداشت کرنا درحقیقت کوئی کمال نہیں بلکہ ایک طرح کی خامی ہے لیکن اگر مرض اور موت کی تکلیفوں کو دیکھا جائے تو ان کے اعتبا ر سے دوا کی تکلیف کو برداشت کرنا قابلِ تعریف ہے۔
	بہرحال ایسا خوف جو انسان کو عمل کی طرف راغب کرنے کے بجائے مایوسی اور نا اُمیدی میں  مبتلا کردے وہ مذموم ہے ۔اس قسم کا خوف بعض اوقات انسان کوشدید مرض ،کمزوری،حیرانی ودیوانگی بلکہ موت تک بھی لے جاتا ہے۔ایسا خوف شرعاً مذموم ہے اور یہ اس  مار کی طرح ہےجس کے سبب بچہ ہلاک ہوجائے یا پھر اس کوڑے کی مثل ہے جو جانور کو ہلاک یا بیمار کردےیا پھر اس کے کسی عضو کو ضائع کردے۔ سَیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بکثرت ایسی باتوں کا بیان فرمایا ہے جو انسان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی رحمت کی طرف متوجہ کرتی ہیں،انہیں بیان کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعے حد سے تجاوز کرنے والے اور مایوسی میں مبتلا کرنے والے خوف کا علاج کیا جاسکے۔
	ہروہ چیزجسے کسی مقصوداورمرادتک پہنچنے کے لئے اختیارکیاجاتاہے اس کی اسی قدرمقدارقابلِ تعریف ہوتی ہے جو مطلوبہ مقصود تک پہنچانے میں مُعاوِن ثابت ہو جبکہ جو مقدار مقصود تک نہ پہنچا سکے یا اس سے تجاوزکرجائے وہ قابلِ مذمت ہوتی ہے۔خوف کامقصودومطلوب یہ ہوتاہے کہ بندے کواحتیاط،پرہیزگاری، تقوٰی،مجاہدہ ،عبادت،فکر،ذکر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ  تک پہنچانے والے دیگر اسباب حاصل ہوسکیں اور ان سب اسباب کو پانے کے لئےبدن کی صحت اور عقل کی سلامتی کے ساتھ زندگی ضروری ہےاس لئے خوف کی کوئی بھی ایسی قسم جو ان اسباب میں خلل پیدا کرے وہ شرعاً مذموم ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	جس شخص پر خوفِ خدا کا ایسا غلبہ ہو کہ وہ اسی کیفیت میں فوت ہوجائےتو وہ شہید ہوتا ہے پھربھلا اس