حقیقی عالِم کون؟
علما سے میری مراد وہ لوگ نہیں جو رسمی طور پر علم حاصل کرکے عالم کہلانے لگتے ہیں کیونکہ یہ تو سب لوگوں سے زیادہ خوفِ خدا سے دور ہوتے ہیں بلکہ وہ نُفوسِ قُدسیہ مرادہیں جواللہ عَزَّ وَجَلَّ،اس کی نعمتوں، نشانیوں اور اَفعال کا علم رکھنے والے ہیں اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کا وُجود آج کے دور میں بہت کم ہے۔
اقرارجھوٹ اور انکارکفر:
اسی لئے حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب نے ارشاد فرمایا:اگر تم سے یہ پوچھا جائےکہ کیا تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف رکھتے ہو تو خامو ش ہوجاؤ کیونکہ اگر تم نے انکار کیا تو یہ کفر ہوگا اور اگر اقرار کیا توجھوٹ ہوگا۔
حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابنے اپنے اس قول میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ حقیقی خوفِ خدا وہ ہے جو انسان کے اعضاء کو گناہوں سے روک کر نیک اعمال کا پابند بنادے جبکہ جو خوف اعضاء میں مذکورہ اثر نہ کرے وہ محض دل میں آنے والاایک خیال ہے اور اس قابل نہیں کہ اسے خوفِ خدا کا نام دیا جائے۔
(2)…حد سے زیادہ خوف:
حد سے زیادہ خوف وہ ہے جو اس قدر شدید ہو کہ اِعتدال کی حد سے تجاوُز کرجائے یہاں تک کہ اس کا شکارشخص اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے مایوسی اور نا اُمیدی میں مبتلا ہوجائے۔اس قسم کا خوف بھی شرعاً قابلِ مَذمت ہےکیونکہ یہ انسان کو عمل سے روک دیتا ہے۔خوف کا مقصد وہی ہوتا ہے جو کہ کوڑے کامقصد ہے یعنی عمل پر اُبھارنا۔اگر یہ مقصد حاصل نہ ہو تو پھر خوف میں کوئی کمال نہیں کیونکہ درحقیقت خوف میں نقصان ہےاس لئے کہ خوف لاعلمی اور عاجزی کے سبب پیدا ہوتا ہے۔لاعلمی سےاس لئے کہ بندےکو اپنے مُعاملے کے انجام کی خبر نہیں ہوتی ،اگر اسے خبر ہوجائے تو وہ خوف زدہ نہ ہو کیونکہ وہ اپنے انجام سے خوف کا شکا ر ہوتا ہے جس کے بارے میں وہ تَرَدُّد کا شکا رہے۔عاجز ہونا بھی خوف کے پیدا ہونے کا سبب ہےکیونکہ بندے کو ایک ایسی چیز کا