مقصود کا حُصول مشکل ہوجاتا ہے۔
یہاں تک ہم نے جس قدر کلام کیا ہے اس میں خوف کے مختلف معانی نیز اس کے دونوں کناروں کا بیان شامل ہے۔اوپری کنارے میں اس معرفت کا بیان ہے جو خوف کے پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے جبکہ نچلے کنارے میں ان اعمال کا بیان ہے جو خوف سے صادر ہوتے ہیں چاہے خوف کے سبب ان اعمال کا اِرتکاب کیا جائے یا انہیں ترک کیا جائے۔
دوسری فصل: خوف کے درجات اور ان کی مختلف صورتیں
جان لیجئے کہ خوف ایک قابلِ تعریف چیز ہے لیکن بعض اوقات یہ گمان کیا جاتا ہےکہ جو چیز قابلِ تعریف ہو وہ جس قدر زیادہ اور مضبوط ہو اسی قدر اچھی ہے حالانکہ یہ ایک غلط گمان ہے۔دراصل خوف اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ایک کوڑا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو علم وعمل کی پابندی کی طرف ہانکتا ہے تاکہ بندے اس کےقُرب کا مرتبہ پانے میں کامیاب ہوسکیں۔چوپایوں اور بچوں کو قابو میں رکھنے کے لئے اگرچہ کوڑے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہےکہ ہروقت انہیں مارتے رہنا کوئی اچھا عمل ہے۔ خوف کے تین مراتب ہیں:(۱)…حد سے کم(۲)…حد سے زیادہ(۳)…معتدل۔ان تینوں میں سے معتدل اور اوسط درجے کا خوف بہترین اور قابلِ تعریف ہے۔
(1)…حد سے کم خوف:
جو خوف حد سے کم ہو وہ عورتوں پر طاری ہونے والی رِقَّت کی طرح عارضی ہوتا ہے مثلاً: قرآن کی کوئی آیت سننے پر یا پھر کوئی ڈرادینے والا معاملہ دیکھ لینے پر خوف کی کیفیت پیدا ہوئی،رونے دھونے آنسو بہانے کا سلسلہ ہو ااور پھر جب وہ ڈرانے والی چیز نظروں سے اوجھل ہوگئی تو دل دوبارہ اپنی سابِقَہ غفلت والی حالت پر لوٹ آیا ۔اس قسم کا خوف حد سے کم اور انتہائی معمولی نفع کا حامل ہے اور اس کی مثال ایسےہے جیسے کسی طاقتورجانور کو ہانکنے کے لئے کمزور سی ٹہنی کا استعمال کیا جائے ۔ظاہر ہےکہ ا س ٹہنی کے مارنے سے نہ تو جانور کو کوئی خاص تکلیف ہوگی اور نہ وہ منزل کی طرف چلنے پر آمادہ ہوگا ۔عارِفین عِظام اور عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے علاوہ دیگر تمام عام لوگوں کا خوف اسی قسم کا ہوتا ہے۔