Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
455 - 882
 ہیں،دل میں اَفْسُردَگی ،خشوع اور عاجزی وانکساری کی کیفیت پیداہوتی ہے، دل سے تکبر،حسد ،کینہ اور دیگر بُری صفات کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔خوفِ خدا کی دولت سے مالا مال خوش نصیب انسان ہمہ وقت خوف کی کیفیت میں مگن رہتا اور اپنے انجام کی فکر میں لگا رہتا ہے جس کے سبب وہ (دنیاوی مقاصد کے لئے)کسی دوسرے انسان کے سامنےنہیں گڑگڑاتا اور ہر وقت غور وفکر ،محاسَبے اور مجاہدے میں مشغول رہتا ہےاور اپنی زندگی کے قیمتی لمحات اور سانسوں کو مفید کاموں میں خرچ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔نیز دل میں آنے والے خیالات، ہاتھ پاؤں کی حرکات اور زبان سے ادا ہونے والے کلمات پر اپنا محاسَبہ کرتا ہے۔ایسے شخص کی حالت اس شخص جیسی ہوتی ہے جو خونخوار درندے کے قابو میں آچکا ہے اور نہیں جانتا کہ یہ درندہ اُسے چھوڑدے گا یا پھر چیر پھاڑ ڈالے گا۔ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں مذکورہ شخص ہمہ تن اس درندے کی طرف متوجہ رہے گا اور کسی دوسری طرف ہرگز التفات نہیں کرے گا۔جس شخص پر خوف کی کیفیت مکمل طور پر غالب آجائے اس کی یہی حالت ہوتی ہے اور یہی حال صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہ ُالسَّلَام کی ایک جماعت کا تھا۔
خوفِ خدا  سے حاصل ہونے والے مقامات:
	ماقبل جو عرض کیا گیا کہ خوفِ خدا رکھنے والا شخص مراقبہ،محاسَبہ اور مجاہدہ میں مشغول رہتا ہے تو اس کی قوت اس خوف کی قوت کے مطابق ہوتی ہے جو کہ دل کی سوزش اور تکلیف کا نام ہے جبکہ خوف کی قوت اس اعتبار سے ہوتی ہے کہ بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلال وعظمت،صفات و افعال نیز اپنی ذات میں موجود عُیُوب ونقائِص اور (مرنے کے بعدپیش آنے والے)خطرات اور ہولناکیوں کی کس قدر معرفت حاصل ہے۔
	خوف  کا کم سے کم درجہ جس کا اثر اعمال میں ظاہر ہوتا ہے، یہ ہے کہ بندہ ان تمام کاموں سے باز آجائے جو شرعاًممنوع ہیں۔ممنوعاتِ شَرعِیَّہ سے باز رہنے کے اس عمل کو ’’وَرَع‘‘یعنی پرہیزگاری کہا جاتا ہے۔اگر باز رہنے کی اس قوت میں اضافہ ہوکر ان چیزوں کو بھی شامل ہوجائے جن کے حرام ہونے کا امکان ہے اور بندہ ان کاموں کو بھی ترک کردے جن کی حُرمت یقینی نہ ہو تویہ ’’تقوٰی‘‘ہےکیونکہ تقوٰی یہ ہے کہ بندہ شک میں ڈالنے والی چیزوں کو ترک کرکے غیر مشکوک چیزوں کو اختیار کرلےاور اس شخص کو تقوٰی نے اس بات پر برانگیختہ کیا ہے کہ جن چیزوں میں حرج ہے ان کے خوف سے ان چیزوں کو بھی ترک کردے جن میں کوئی