بدن پر خوفِ خدا کا اثر:
بدن پر اس کااثررنگت کے زردپڑجانے ،بے ہوشی،چیخ وپکار اور رونے دھونے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہےاور بعض اوقات خوف کی کیفیت اس قدر غالب آتی ہے کہ انسان کا پِتاپَھٹ جاتا ہے جس کے سبب وہ ہلاک ہوجاتا ہے یا پھر یہ کیفیت اس کی دماغ پر غالب آجاتی ہے جس کے باعث وہ اپنی عقل سے ہاتھ دھوبیٹھتا ہے یا پھر خوف کی یہ کیفیت اس قدر مضبوط ہوجاتی ہے کہ بندہ اللہعَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوسی اور نااُمیدی کا شکار ہوجاتا ہے۔
اعضاء پرخوفِ خدا کا اثر:
خوفِ خدا کا اعضاء پر یہ اثرہوتا ہے کہ بندہ گزشتہ گناہوں کی تلافی اور مستقبل کی تیاری کے لئے اپنے اعضاء کو گناہوں سے باز رکھتا اور صرف نیک کاموں کے لئے استعمال کرتا ہے۔اسی لئے کہا گیا ہے کہ خوفِ خدا رکھنے والا شخص وہ نہیں جو روتا ہے اور اپنی آنکھوں سے آنسوپونچھتا ہے بلکہ خائف وہ ہے جو ان کاموں کو ترک کردے جن پر سزا کا اندیشہ ہو۔
حضرت سیِّدُنا ابوالقاسم اسحاق بن محمد سمرقندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:جو شخص کسی چیز سے خوف زدہ ہوتا ہے وہ اس سے دور بھاگتا ہے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خوف رکھنے والا اُسی کے دامنِ کرم میں پناہ لیتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی كی خدمت میں عر ض کی گئی:بندہ خائِفِیْن کے مقام پر کب فائز ہوتا ہے؟ارشاد فرمایا:جب وہ اپنے آپ کو اس مریض کی طرح سمجھے جو مرض کے بڑھنے کے خوف سے ہر چیز سے پرہیز کرتا ہے۔
صفات پر خوفِ خدا کا اثر:
خوفِ خدا کا صفات پر یہ اثرہوتا ہے کہ نفسانی خواہشات کا جڑ سے خاتمہ ہوجاتا ہے،دنیوی لذتیں بے مزہ ہوجاتی ہیں اور محبوب ترین گناہ بندے کے نزدیک اس طرح ناپسند ہوجاتے ہیں جیسےشہد کی خواہش رکھنے والے کواگر یہ علم ہوجائے کہ اس میں زہر شامل ہے تو وہ اس کے نزدیک ناپسند ہوجاتا ہے۔
بہرحال خوفِ خدا کی برکت سے نفسانی خواہشات جل کر خاکستر ہوجاتی ہیں،اعضاء باادب ہوجاتے