بہرحال ناپسندید ہ چیز تک لے جانے والے اسباب کا علم دل میں پیدا ہونے والے درد،گھبراہٹ اور سوزش کا باعث بنتا ہے اور اسی سوزش وگھبراہٹ کی کیفیت کا نام خوف ہے۔
خوفِ خدا كے اسباب:
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےخوف کا مُعاملہ بھی یہی ہے۔خوفِ خدا کبھی تو اللہعَزَّ وَجَلَّکی ذات وصفات کی معرفت کے سبب پیدا ہوتا ہے کہ اگروہ تمام جہانوں کو ہلاک فرمادے تو بھی اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہ ہوگی اور نہ کوئی اسے اس بات سےروک سکتا ہے۔بعض اوقات خوفِ خدا کا سبب یہ ہوتا ہے کہ بندہ بہت گناہ گار ہوتا ہے جبکہ بسااوقات ذات وصِفات کی مَعْرِفَت اور گناہوں کا ارتکاب یہ دونوں خوفِ خدا کا سبب بنتے ہیں۔ بندے کو جس قدر اپنے عیبوں کا علم ہو،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےجلال،بلندی اور بے نیازی کی معرفت حاصل ہو اور یہ بات پیشِ نظر ہوکہ:
لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾ (پ۱۷،الانبیاء:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اس سے نہیں پوچھا جاتا جو وہ کرےاور ان سب سے سوال ہوگا۔
اسی قدر اس کے دل میں خوفِ خدا زیادہ ہوگا۔ لوگوں میں سب سے زیادہ خوفِ خدا کا حامل وہ شخص ہوگا جسے سب سے زیادہ اپنی ذات اور اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت حاصل ہوگی اسی لئے سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اَنَا اَخْوَفُكُمْ لِلّٰہِ یعنی میں تم سب سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف رکھنے والا ہوں۔(1)
اللہعَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالی شان ہے: اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ (پ۲۲،فاطر:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
جب بندے کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی کامل معرفت حاصل ہوجاتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے دل میں سوزش اور خوف کی حالت پیدا ہوتی ہے پھر اس سوزش کا اثر دل سے اس کے بدن ،ظاہری اعضاء اور صفات پر ظاہر ہوتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری،کتاب النکاح ، باب الترغیب فی النکاح،۳/ ۴۲۱،حدیث:۵۰۶۳