Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
452 - 882
 خوف اور اُمید کے لئے کوئی جگہ نہیں بچتی۔
	خلاصہ یہ ہے کہ محبت کرنے والا اگر محبوب کی جدائی کے خوف سے اپنے دل کو اس کے مشاہد ے میں مشغول کرے تو ایسا مشاہَدہ ناقص ہوگااگر چہ محبوب کا دائمی مشاہدہ سب سے بلند ترین  مقام ہے لیکن فی الحال ہم ابتدائی مقام کے اعتبار سے گفتگو کررہے ہیں۔
خوف میں شامل امور:
	رَجا(اُمید) کی طرح خوف کی حالت بھی  علم ،حال اور عمل کے مجموعے سے مرتب ہوتی ہے۔
علم:
	علم سے مراد ناپسندیدہ چیز تک لے جانے والے سبب کا علم ہےمثلا ً کسی شخص نے بادشاہ کی نافرمانی کی اور گرفتار کرلیا گیا تو اب اسے قتل کئے جانے کا خوف بھی ہے اور مُعافی وآزادی کی امید بھی لیکن اسے جس قدر قتل تک لے جانے والے اسباب کا علم ہوگا اسی قدر اس کےدل میں خوف میں اضافہ ہوگا مثلاًاس کی نافرمانی کا بڑا ہونا،بادشاہ کاانتقامی مزاج والا،غصیلا اور کینہ پرور ہونا ،بادشاہ کے اردگرد انتقام پر ابھارنے والوں کی موجود گی اور اس کے حق میں سفار ش کرنے والوں کا نہ ہونا اور اس مجرم کا کسی ایسے وسیلے یا عمل سے خالی ہونا جو بادشاہ کے نزدیک اس کے جُرم کی شدت کو کم کردے وغیرہ وغیرہ ۔جس قدر ان  اسباب کی زیادتی کا علم ہوگا اسی قدر دل میں خوف کی کیفیت زیادہ ہوگی جبکہ ان اسباب کی کمزوری کے حساب سے خوف کی کیفیت میں بھی کمی ہوگی۔
	بعض اوقات خوف کا سبب یہ  نہیں ہوتا کہ ڈرنے والے نے کسی جرم کا اِرتکاب کیا ہے بلکہ جس چیز سے خوف کیا جارہا ہےاس کی کوئی  صفت اس خوف کا باعث بنتی ہے مثلاً کوئی شخص کسی درندے کے چنگل میں پھنس جائے تو وہ درندے کی ذات میں موجود صفات یعنی چیر نے،پھاڑنے کے سبب اس سے خوف کرے گااگرچہ یہ چیر پھاڑ درندے کا اختیاری وصف ہے۔یونہی بعض اوقات ڈرانے والی چیز کا کوئی قدرتی وصف خوف کا باعث بنتا ہے مثلاً کوئی شخص پانی کے بہاؤمیں یا آگ کے قریب گر جائے تووہ اس لئے خوف زدہ ہوگا کہ قدرت نے پانی کو  بہنے اور ڈبونے والا جبکہ آگ کو جلانے والا بنایا ہے ۔