Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
451 - 882
  اسبابِِ خوف میں ذکر کریں گے اس لئے کہ اکثر لوگوں کی اِصلاح  صرف خوف سے ہو تی ہےجیسے بُری عادتوں میں ملوث غلام اور شرارتی بچے کو کوڑے،لاٹھی اور سخت کلامی کے بغیر راہ راست پر نہیں لایا جاسکتا۔لہٰذا اس کے برعکس  مُعاملہ کرنے کی صورت میں  ہو سکتا ہے کہ ان پردین و دنیا میں اصلاح کا دروازہ بند ہو جائے۔
باب نمبر2:				خوف کابیان
	اس باب میں درج ذیل نوفصلیں  ہیں :(۱)…خوف کی حقیقت(۲)…خوف کےدرجات(۳)…خوف والی  اشیاء کی اقسام(۴)…خوف کی فضیلت (۵)…خوف  افضل  ہےیاامید(۶)…خوف پیدا کرنےکی دوا کا بیان (۷)…برے خاتمے کا مفہوم (۸)…انبیائے کِرام اور ملائکہ عِظام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاخوفِ خُدا(۹)…صحابَۂ کِرام،تابعینِ عِظام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناورسَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا خوفِ خدا۔ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حُسنِ توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ 
پہلی فصل:			   خوف کی حقیقت کابیان 
خوف کی تعریف:
	اس بات کو ذہن نشین کرلیجئے کہ مستقبل میں کسی ناپسندید ہ چیز کے درپیش آنے کے خدشے کے سبب دل میں پیدا ہونے والے درد ،سوزش  اور گھبراہٹ کو خوف کہا جاتا ہے۔گذشتہ صفحات  میں اُمید کی حقیقت بیان کرتے ہوئے خوف کی حقیقت بھی ظاہر ہوچکی ہے اس لئے ہم یہاں اسےنہیں دہرائیں گے۔ 
	جوبندہاللہعَزَّ   وَجَلَّ سے مانوس ہوجائے،یادِ خداوندی اس کے دل پر غلبہ پالےاوروہ ہرگھڑی اللہ عَز ّ َ وَجَلَّ کے انوار وتجلیات کا مشاہدہ کرنے والا بن جائے تو اسے مستقبل کی کوئی فکر نہیں رہتی اور اس کے لئے خوف و اُمید بے معنیٰ ہوجاتے ہیں کیونکہ  یہ دونوں تو دو لگامیں ہیں جو نفس کو اس کی اصلی حالت کی طرف واپس جانے سے روکتی ہیں جبکہ مذکورہ شخص ان  دونوں سے بلند رُتبہ پر فائز ہوجاتا ہے۔حضرت سیِّدُناابو الحسن واسِطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  نے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :خوف بندے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان حجاب ہے۔ آپ مزید ارشاد فرماتے ہیں :جب دلوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد غالب آجائے تو پھر ان میں