Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
450 - 882
 اپنے گھر لے آیا،اسے رقم،گیہوں اور کپڑے پیش کئے۔اِسی رات سفیدلباس میں ملبوس ایک آدمی چودھویں کےچاندکی طرح چہرہ چمکتا ہوا میرے خواب میں آیااور شکریہ ادا کرنے لگا۔میں نے پو چھا: آپ کون ہیں؟بولا: میں وہی مخنث ہوں جسے آج آپ لوگوں نے دفن کیاتھا،لوگوں کے حقیر سمجھنے کی وجہ سے میرے ربّ عَزَّ  وَجَلَّنے مجھ پر رحم فرمایا۔
بد دُعا کی جگہ توبہ کی دعا:
	حضرت ِسیِّدُنا ابراہیم اَطْرُوْشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:ہم بغداد شریف میں دریائے دِجلہ کے کنارےحضرت سیِّدُنامعروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھےکہ کچھ نوجوان دَف بجاتے، شراب پیتے اور کھیل کود کرتے ہوئے ایک چھوٹی کشتی میں ہمارے پاس سے گزرے۔لوگوں نے حضرت سیِّدُنا معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے عرض کی:کیا آپ انہیں دیکھ رہے کہ کس طرح کھلے عام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کررہے ہیں؟آپ ان کےلئےبددعا کیجئے۔آپ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! جس طرح تو نے انہیں دنیا میں خوشی بخشی ہے اسی طرح آخرت میں بھی مسرور کرنا ۔لوگوں نے عرض کی:ہم نے تو آپ سے بد دعا کرنے کا کہا تھا۔آپ نے ارشاد فرمایا:اگر اللہ عَزّ َ وَجَلَّانہیں آخرت کی خوشیاں عطا  فرمائے گا تو(مرنے سے پہلے)انہیں توبہ کی توفیق دےدے گا۔
گویا تو غضب فرماتا ہی نہیں!
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنی دعاؤں میں یہ عرض کیا کرتے:اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ! کس زمانے کے لوگوں نے تیری نا فرمانی نہیں کی مگر پھر بھی ان پر تیری نعمت پوری اور رزق  وسیع رہا،تیری ذات پاک ہے، تیرا حِلم کیا ہی خوب  ہے ،تیری عزت کی قسم!تیری نافرمانی کی جاتی ہے لیکن پھر بھی تو نعمت کو پورا کرتا ہے اور وسیع رزق عطا فرماتا ہے گویا تو غضب فرماتا ہی نہیں۔
تبصرۂ امامِ غزالی :
	یہ وہ اسباب تھے جوخوف زدہ اور مایوس لوگوں کے دلوں میں امید پیدا کرتے ہیں۔بے وقوف اور دھوکے میں پڑےلوگوں کوان میں سے کچھ بھی نہیں سنانا چاہئے بلکہ انہیں وہ باتیں سنا ئی جائیں جنہیں ہم