Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
45 - 882
(7)…حضرت سیِّدُنا حبیب بن ثابت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں:بروزِ قیامت بندے کو اس کے گناہوں کے سامنے کیا جائے گا۔ جب وہ ایک گناہ کو دیکھے گا تو کہے گا:”بے شک میں اس گناہ سے ڈرتاتھا۔“پس اسے بخش دیا جائے گا۔
توبہ کا دروازہ کھلا ہے:
(8)…کسی شخص سے ایک گناہ ہوگیا تواس نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے اس گناہ کے بارے میں پوچھا کہ” کیا اس گناہ کی توبہ ہے؟“ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے منہ پھیر لیا۔ پھر اس کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے فرمایا:”جنت کے آٹھ دروازے ہیں،سب کھلتے اور بند ہوتے ہیں سوائے توبہ کے دروازہ کے۔ اس پر ایسا فِرِشتہ مُقَرَّر ہے جو اسے بند نہیں کرتا، لہٰذا تم عمل کرو اور مایوس نہ ہو۔“
اسلام کے بعد اسلام:
(9)…حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابوالقاسم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت سیِّدُنا ابراہیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کافر کی توبہ اور اس آیتِ مبارَکہ” اِنۡ یَّنۡتَہُوۡا یُغۡفَرْلَہُمۡ مَّا قَدْ سَلَفَ ۚ (پ۹، الانفال:۳۸، ترجمۂ کنزالایمان: اگر وہ باز رہے تو جو ہوگزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا۔)“ کے بارے میں گفتگو کی تو انہوں نے ارشاد فرمایا:میں اُمیدکرتاہوں کہ مسلمان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں اس سے بہتر حال میں ہوگا اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ”مسلمان کا توبہ کرناگویا اسلام کے بعد اسلام لانا (یعنی سرتسلیْمِ خَم کرنا) ہے۔“
(10)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:”میں تمہیں جو بھی بتاتا ہوں وہ کسی نبی یا نازل شدہ آسمانی کتاب سے ہی بتاتا ہوں۔بے شک بندہ اگر گناہ کا مرتکب ہوجائے پھر پلک جھپکنے کی مقدار نادم وشرمسار ہو تو اس کے پلک جھپکنے سے بھی جلدی وہ گناہ زائل ہوجاتا ہے۔“
توبہ کرنے والوں کی صحبت:
(11)…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا فرمانِ نصیحت بنیاد ہے:”توبہ کرنے