لئےکیا دعا کرانا چاہتے ہو؟اس نے عرض کی:میرا ایک آقا ہے اس سے چھٹکارا چاہتا ہوں۔آپ نے اس کی آزادی کے لئے دعا کر دی اور پوچھا کہ دوسری دعا کیا ہے؟اس نے عرض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے ان چار درہم کاعوض عطا کر دے۔آپ نے یہ بھی دعا کردی اور دریافت کیا کہ تیسری دعا کیا ہے ؟اس نے عرض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے آقا کو توبہ کی توفیق دے۔آپ نے آقا کے لئے بھی دعا کردی پھر پوچھا کہ چوتھی کیا ہے؟اس نے عرض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری، میرے آقا کی ،آپ کی اور حاضرینِ مجلس کی مغفرت فرمائے،آپ نے یہ دعا بھی کردی۔غلام جب واپس لوٹا تو آقا نے تاخیر کا سب پوچھاچنانچہ اس نے سارا واقعہ بیان کردیا۔آقا نے پو چھا کہ تم نے کون سی دعا ئیں کروائی ہیں؟اس نے عرض کی:پہلی دعا یہ تھی کہ مجھے آزادی مل جائے ،آقا نے کہا:جا!تو آزاد ہے ۔غلام نے عرض کی :دوسری دعا یہ تھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے ان دراہم کا بدلہ عطا فرمائے۔آقا نے کہا:تیرے لئے چار ہزار درہم ہیں۔غلام نے عرض کی:تیسری دعا یہ تھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو توبہ کی توفیق عطافرمائے۔آقا نے کہا:میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔غلام نے عرض کی: چوتھی دعا یہ تھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری،آپ کی،حاضریْنِ مجلس اور واعظ(یعنی حضرت سیِّدُنامنصور بن عمارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار) کی مغفرت فرمائے۔آقانے کہا:یہ چوتھی بات میرے اختیار میں نہیں ہے۔رات کو جب وہ سویا تو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے: تیرے اختیار میں جو کچھ تھا وہ تونے کیا ،تیرا کیا خیال ہے جو میرے اختیار میں ہے وہ میں نہیں کروں گا ،میں نے تیری ،غلام کی،منصور بن عمار کی اور تمام حاضرین کی مغفرت کردی۔
حکایت:ایک ہیجڑے کی مغفرت
حضرت سیِّدُناعبد الوہاب بن عبد المجید ثقفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:میں نے ایک جنازہ دیکھا جسے تین مرد اور ایک خاتون نے اٹھا رکھا تھا ،خاتون کی جگہ میں نے اٹھا لیا پھر ہم جنازے کو قبرستان لے گئے ،نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین کے بعد میں نے اس خاتون سے معلوم کیا کہ میت سے آپ کا کیا رشتہ تھا ؟بولی:میرا بیٹا تھا۔میں نے پو چھا:پڑوسی وغیرہ جنازے میں کیوں نہیں آئے ؟اس نے کہا:انہوں نے اس کے معاملہ کو حقیر سمجھ کر کوئی اہمیت نہیں دی ۔میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا:میرا فرزند ہیجڑاتھا۔ حضرت سیِّدُناعبد الوہاب بن عبد المجید ثقفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:مجھے اس غمزدہ ماں پر بڑا رحم آیا ،میں اسے