گزار عرض کرے گا:اے میرے ربّ!یہ دنیا میں مجھ سے زیادہ عبادت نہیں کیا کرتا تھا پھر کیاو جہ ہے کہ تونے اسے عِلِّیِیْن میں بلند درجہ عطا فرمایا؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:وہ دنیا میں مجھ سے بلند درجات کا سوال کیا کرتا تھا اور تو جہنم سے نجات کی دعا مانگا کرتا تھا لہٰذامیں نے ہرایک کو اس کے سوال کے مطابق عطا کردیا۔
اس واقعہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ اُمید کے ساتھ عبادت کرنا افضل ہے اس لئے کہ خوف رکھنے والےکے مقابلے میں اُمید رکھنے والے شخص پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت زیا دہ غالب ہو تی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بلند درجات کا سوال کیا کرو:
سزاسے بچنےاوراِنعام واِکرام کے لئے جولوگ دنیاوی بادشاہوں کی خدمت کرتے ہیں بادشاہ ان کے درمیان فرق رکھتے ہیں اسی لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے(اپنی ذات کےبارےمیں)اچھےگمان کاحکم دیا ہےاوراسی بِنا پر رسولِ پاک،صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:”سَلُوااللہ الدَّرَجَاتِ الْعُلٰی فَاِنَّمَا تَسْاَلُوْنَ کَرِیْمًا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بلند درجات کا سوال کیاکرواس لئے کہ تم کریم سے سوال کر تےہو۔“(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے کوئی بھی چیزدینا مشکل نہیں:
رسولِ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سوال کرو تواس میں خوب رغبت کرو اور اس سے فردوسِ اعلیٰ کا سوال کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے کوئی بھی چیزدینا مشکل نہیں ہے۔(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکاعفو وکرم:
حضرت سیِّدُنا بَکْربن سُلَیْم صوَّافعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں:جس شام حضرت سیِّدُنا امام مالک بن اَنَسعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد کاوصال ہوا ہم ان کے پاس تھے۔ہم نےان سے پوچھا:اے ابوعبداللہ!آپ خود کو کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ فرمایا:مجھے نہیں معلوم کہ اس سوال کا تمہیں کیا جواب دوں مگر عنقریب تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۷۴
2… بخاری ، کتاب الجھادوالسیر، باب درجات المجاھدین… الخ،۲/ ۲۵۰،حدیث :۲۷۹۰،بتغیر
مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب ا لعزم بالدعاء، ص۱۴۴۰، حدیث :۲۶۷۹