Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
445 - 882
 حضرت سیِّدُناعیسٰیعَلَیْہِ السَّلَامکی طرف وحی فرمائی کہ ان دونوں سے کہہ دیں کہ  نئےسرے سےعمل شروع کریں  کیو نکہ ان کےپچھلے تمام اعمال  مٹادیئے گئے، حواری کے اعمالِ حسنہ خود پسندی کی وجہ سے ضائع  ہوگئےاورڈاکو کے اعمالِ سَیِّئَہ خود کو حقیر سمجھنے کے سبب مٹادیئے گئے۔آپ نےان دونوں کو اس وحی سے مطلع کیا اور اس شخص کو اپنا ہم سفر بنالیا اوراسے اپنے حواریوں میں شامل کر لیا ۔
حکایت:ایک سرکش کی مغفرت
	حضرت سیِّدُنامسروقرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ(بنی اسرائیل کے) ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں سجدہ ریز تھے کہ ایک سرکش شخص نے ان کی گردن کو رونددیا حتّٰی کہ روندنے کی شدت کے باعث کنکری ان کی پیشانی کے ساتھ  مل گئی ۔ نبی عَلَیْہِ السَّلَامنے جلال کی حالت میں اپنا سر اٹھایا اور اس سے فرمایا:جاؤ!اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہرگز تمہاری مغفرت نہ کرے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ میرے بندوں کے معاملے میں مجھ پر قسم کھاتےہو ،بلاشبہ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے۔
	حضرت سیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سَیِّدِعالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز میں مشرکین کے خلاف دعا کیا کرتے اور ان پر لعنت بھیجتے تھے تو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ اَوْ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّہُمْ ظٰلِمُوۡنَ﴿۱۲۸﴾ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا اُن پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں۔
	اس آیت کے نازل ہو نے کے بعد آپ نے ان کے خلاف دعاکرنا چھوڑ دی (1)اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان میں سے بہت سوں کو ہدایت عطا فرما کر اسلام کی دولت سے مشرف فرمایا۔
جیسی مانگ ویسی عطا:
	مروی  ہے کہ دو عبادت گزار  برابر برابر عبادت کیا کرتے تھے(بروز قیامت)جب انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا تو ایک کو دوسرے کے مقابلے میں بلند درجات عطا کئے جائیں گے۔اس پر ایک عبادت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب التفسیر، باب لیس لک من الامر،۳/ ۱۹۴،حدیث : ۴۵۵۹عن ابن عمر،بتغیر