اُمید کے متعلق نواقوالِ بزرگا نِ دین:
(1)…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنےفرمایا:جس نےکوئی گناہ کیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا میں اس کی پردہ پو شی فرمائی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےکرم کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ آخرت میں اس کا پردہ اٹھا دے اور جس شخص کو دنیا میں اس کے گناہ کی سزا دے دی گئی ہوتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےعدل و انصاف کا تقاضایہ نہیں ہے کہ آخرت میں اپنے بندے کو دوبارہ سزا دے۔(1)
(2)…حضرتِ سیِّدُناسُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:مجھے یہ پسند نہیں کہ میراحساب میرے والدین کے سِپُرد کردیا جا ئے کیو نکہ مجھے معلوم ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے والدین سے بڑھ کر مجھ پر رحم کرنے والا ہے ۔
(3)…ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب مومن گناہ کرتا ہےتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسےفرشتوں کی نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کے خلاف گواہی نہ دے سکیں۔
(4)…حضرت سیِّدُنا محمد بن مُصعب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےحضرت سیِّدُنااَسود بن سالمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوخط لکھا کہ جب بندہ اپنےاوپرظلم کرتا ہےاور بارگاہِ خُداوندی میں اپنے ہاتھوں کو دعا کے لئے اٹھاکرعرض کرتا ہے:”اے میرے ربّ“تو فرشتے اس کی آواز روک دیتے ہیں ۔دوسری اور تیسری مرتبہ بھی ایسے ہی ہو تا ہے حتّٰی کہ جب وہ چوتھی مرتبہ”اے میرے ربّ“ کہتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :کب تک میرے بندے کی آواز مجھ سے روکتے رہو گے؟بلاشبہ میرابندہ یہ بات جانتا ہے کہ میرے علاوہ کوئی ربّ نہیں جو اس کے گناہوں کو بخشے، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے بخش دیا۔
(5)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں:ایک رات مجھے تنہا طواف کرنے کا موقع ملا ۔یہ ایک تاریک رات تھی جس میں شدید بارش ہو رہی تھی ۔میں ملتزَم( یعنی حجر اسود اوربابِ کعبہ کی درمیانی دیوار) کے پاس کھڑا ہوگیااور یہ دعا کرنے لگا:اے میرے رب ! مجھے اپنی حفاظت میں لے لے تا کہ میں کبھی بھی تیری نافرمانی نہ کر سکوں۔توبیتُاللہ سے غیبی آوازآئی:اے ابراہیم!تم مجھ سے گناہوں سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۵۷