Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
441 - 882
(38)…میں چاہتا ہوں اہْلِ کتاب یہ بات جان لیں کہ ہمارے دین میں آسانی ہے۔(1)
	اللہ عَزَّ   وَجَلَّکامؤمنین کی دعاقبول فرمانا اس امر کی دلیل ہےچنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَحْمِلْ عَلَیۡنَاۤ اِصْرًا (پ۳،البقرة:۲۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان:(اے رب )ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ۔
	اورارشادفرمایا:
وَیَضَعُ عَنْہُمْ اِصْرَہُمْ وَالۡاَغْلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتْ عَلَیۡہِمْ ؕ (پ۹،الاعراف:۱۵۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ان پر سے وہ بوجھ  اور گلے کے پھندے  جو ان پر تھے اتارے گا۔
” الصَّفْحَ الْجَمِیۡلَ “کیا ہے؟
	حضر ت سیِّدُنا محمد بن حنفیہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا  علیُّ المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ:
فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیۡلَ ﴿۸۵﴾ (پ۱۴،الحجر:۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:تو تم اچھی طرح در گزر کرو۔
	نازل ہو ئی تو رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا: اے جبریل!’’الصَّفْحَ الْجَمِیْل‘‘ کیا ہے؟ حضرت سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب دیا:جب آپ ظلم کرنے والے کو معاف کردیں تو پھر اسے ملامت نہ کریں۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اے جبریل!پھرتواللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے کرم کی بدولت اس بات کا زیادہ حق دار  ہے کہ جس سے درگزر فرمائے تواس پر عتاب نہ کرے۔یہ سن کر حضرت سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَام رونے لگےاور رسولِ پاک،صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی رونے لگے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان دونوں کی طرف حضرت سیِّدُنامیکائیل عَلَیْہِ السَّلَام کوپیغام دے کر بھیجا کہ تمہارا  ربّ تم دونوں کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے:جس کو میں معاف کر دوں گا اس پر عتاب کیسے کروں گا ؟ایسا کرنا میرےکرم کےشایانِ شان  نہیں۔ (2)
	امید کےاسباب کے بارے میں بے شمار اقوال  مروی ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدة عائشة،۹/ ۴۲۷، حدیث: ۲۴۹۰۹،’’اھل الکتاب‘‘بدلہ’’یھود‘‘
2… قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۷۳