Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
44 - 882
 لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۲۵، ترجمۂ کنزالایمان:توبےشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔)“ اس بندے کے بارے میں ہے جوگناہ  کرے پھر توبہ کرلے پھر گناہ کرے پھر توبہ کرلے۔(1)
گناہ گاروں کو بشارت:
(2)…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:گناہ گاروں کو بشارت دے دیجئے کہ اگر وہ توبہ کریں گے تو قبول کی جائے گی اور صدیقین کوڈرایئے کہ اگر میں نے  عَدْل فرمایا تو انہیں عذاب دوں گا۔
(3)…حضرت سیِّدُنا طارق بن حبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حُقُوق اتنے بڑے ہیں کہ بندہ ان کو ادا نہیں کرسکتا مگر تم صبح او رشام توبہ کیا کرو۔“
(4)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”جو بنده ایسی خطا کو یاد کرے جس سے وہ تکلیف میں مبتلا ہوا تھا پھر اس سے اس کا دل لرز جائے تووہ خطا اعمال نامے سے مٹادی جاتی ہے۔“
تُو نہیں بچائے گا تو ایسا پھر ہوسکتا ہے:
(5)…منقول ہے کہ انبیائے بنی اسرائیل میں سے کسی نبی عَلَیْہِ السَّلَام سے لغْزِش واقع ہوئی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ ”مجھے اپنی عزت کی قسم! اگر دوبارہ ایسا ہوا تو عتاب فرماؤں گا۔“ انہوں نے عرض کی:”اے میرے پَرْوَرْدَگار عَزَّ  وَجَلَّ! تُو تو ہے اور میں میں ہوں (یعنی تومعبودہےاورمیں عاجز بندہ)تیری عزت کی قسم! اگر تو نہیں بچائے گا توایسا پھر ہوسکتاہے۔“ تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں محفوظ رکھا۔
شیطان کا افسوس:
(6)…ایک بُزرْگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں: بندے سے کوئی گناہ ہوجاتاہے پھر وہ ہمیشہ اس پر نادم وشرمساررہتا ہے حتّٰی کہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔اس وقت شیطان کہے گا:ہائے! میں اسے گناہ میں مبتلا ہی نہ کرتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر الطبری ، پ ۱۵، الاسرآء الآیة:۲۵،۸/ ۶۵، الرقم: ۲۲۲۲۷