بھیج دیجئے۔وہ عرض کریں گے: کتنوں کو؟حکم ہو گا:ہر ہزار میں سے نو سو نناوے کو جہنم کی طرف اور ایک کو جنت کی طرف۔(یہ فرماکرآپ تشریف لے گئے)صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پریشانی میں مبتلا ہو گئےاور رونا شروع کردیا اور اس روزدیگر کام کاج اور مصروفیات کو موقوف کر دیایہاں تک کہ حضونبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائے اور صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے پوچھا:تم کا م کیوں نہیں کرتے ہو؟صحابَۂ کِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:جو کچھ آپ نے بیان کیا ہے اس کے بعد کون کام میں مشغول ہوسکتا ہے؟آپ نے ارشادفرمایا:تمام اُمتوں کے مقابلے میں تمہاری تعداد ہی کتنی ہے؟باویل ، تاریس، مَنسک اور یاجوج و ماجوجبھی امتیں ہیں جن کی صحیح تعداداللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی جانتا ہے ۔ان تمام امتوں میں تمہاری مثال ایسے ہے جیسے کالے بیل کی جلد پر سفید بال یا جانورکی اگلی ٹانگ میں سفید داغ۔(1)
غور کرو!کس طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکوخوف دلایا کرتےپھرانہیں اُمید کی رسیوں کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جانب کھینچتےکیو نکہ پہلے آپ نےانہیں خوف کے کوڑوں سے چلایااور جب وہ خوف کے سبب حدِّ اعتدال سے تجاوُز کرکے اِفراط یعنی مایوسی کی طرف نکلنے لگےتو اُمید کی دوا کے ذریعے ان کا علاج فرماکر اعتدال اور میانہ روی کی طرف لے آئےاور دوسری بات پہلی کے خلاف نہیں ہےکیونکہ پہلے وہ بات بیان کی جسے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شفا کاسبب جانا اور اسی پر اِکتفا فرمایا پھر جب امید کے ذریعے علاج کی حاجت پیش آئی تو پورا مُعاملہ ذکر کر دیا لہٰذا واعظ کے لیے ضروری ہے کہ وہ واعظین کے سردارحبیْبِ پروردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرےاور باطنی بیماریوں کو پرکھنے کےبعدخوف و اُمید کی روایات کو حسب حاجت استعمال کرنے میں باریک بینی سے کام لے۔اگر وہ اس کا لحاظ نہیں رکھے گا تو اس کےوعظ سے اِصلاح کےمقابلے میں بگاڑ زیادہ ہوگا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّبخشنے والا مہربان ہے:
(28)…اگر تم گناہ نہ کرتےتواللہ عَزَّ وَجَلَّ ضرورایسے لوگوں کو پیدا فرماتا جو گناہوں کا اِرتکاب کرتے پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی ، کتاب التفسیر، سورة الحج،۵/ ۱۱۴،۱۱۳،حدیث : ۳۱۷۹، ۳۱۸۰،بتغیر
بخاری، کتاب الرقاق، باب قولہ عزوجل:ان زلزلة الساعة شی ء عظیم،۴/ ۲۵۴، حدیث :۶۵۳۰،بتغیر